بھوپال کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
ہو جاتی ہے جیسے کوئی ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہو کر ائر پورٹ کنٹرول کی اسکرین سے اچانک غائب ہو جائے ۔ اس کے بعد ر میں جمع کرنے والے لوگ بے یار ومددگار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ ملکی قوانین کے تحت ایسے لوگوں کی کوئی پکڑ نہیں کیوں کہ ان کا نظام ریزرو بینک آف انڈیا سے آزاد رہتا ہے ، اس لئے ریزرو بینک ان کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔ اب دوسرا اجارہ کار یہ ہے کہ شکار ہونے والے افراد عدالت میں جائیں مگر اس معاملہ میں موجودہ قانونی صورت حال یہ ہے کہ اس طرح کا مالی فراڈ کرمنل کیس نہیں بنتا۔ وہ صرف سول کیس بنتا ہے۔ چنانچہ عدالتیں یہ نہیں کر پاتیں کہ وہ ایسی کمپنیوں کور قم کی ادائیگی پر مجبور کریں وہ صرف چند سال کی سزا دے سکتی ہیں اور اربوں روپے کمانے والے ان افراد کے لئے اس قسم کی جیل یاترا ایک تفریحی آئوٹنگ سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
جناب عبد الوحید خاں صاحب ایڈوکیٹ اور کچھ دوسرے صاحبان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کامیاب منصوبہ بندی نام ہے داخلی خواہشوں اور خارجی عوامل کے درمیان مطابقت دریافت کرنے کا ۔ میرا تجربہ ہے کہ بیشتر لوگ صرف اپنی خواہشوں کو جانتے ہیں چنانچہ جو خواہش بھی ان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں حالانکہ جس دنیا میں انھیں اپنی خواہش کو پورا کرنا ہے اس میں دوسرے بہت سے افراد ہیں اور دوسرے بہت سے عوامل کام کر رہے ہیں ایسی حالت میں یہ ناممکن ہے کہ کوئی شخص یک طرفہ طور پر اپنی خواہش کو پورا کر سکے۔ یہ گفتگو ۳ اکتو بر کی صبح کو بھوپال ائر پورٹ پر ہوئی ، جہاں یہ لوگ اور دوسرے بہت سے افراد مجھے الوداع کہنے کے لئے آئے تھے۔ ائر پورٹ پر بعض احباب نے کہا کہ ہم کچھ گھریلو مسائل میں دوچار ہیں ہمیں کوئی دعا بتائیے میں نے ان کو یہ دعا لکھ کر دی۔ اللهم اصلح لي شاني كله دقہ وجلہ یا خیر الرازقین یا ارحم الراحمین اس قیام کے دوران بار بار بھوپال شہر کے مختلف حصوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ نظم اور صفائی وغیرہ کے اعتبار سے بھوپال کی حالت بھی وہی ہے جو ہندوستان کے دوسرے شہروں کی ہے۔ سڑکوں پر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues