شیطانی وسوسہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸
مگر حضرت عائشہؓ نے اس معاملہ میں کوئی براہ راست ”تردیدِ بیان“ نہیں دیا۔ بلکہ یہ فرمایا کہ میں پیغمبر یعقوب کی سنت کے مطابق اس معاملہ میں صبرِ جمیل کا طریقہ اختیار کروں گی (۱۶۲) روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قصہ بہت بڑھا تو رسول اللہ ﷺ از راہ شفقت حضرت عائشہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے عائشہ تم کو وہ بات پہنچ چکی ہے جو کہ لوگ کہہ رہے ہیں پس تم اللہ سے ڈرو۔ اگر تم اس برائی میں پڑی ہو جیسا کہ لوگ کہہ رہے ہیں تو اللہ سے توبہ کر ۔ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عائشہ بے اختیار رونے لگیں۔ پھر انھوں نے کہا: واللہ لا اتوب الی الله مماذكرت ابدا والله انی لاعلم لئن اقررت بما يقول الناس والله يعلم انی بریئة لاقولن مالم يكن ولئن انا انكرت مايقولون لا تصدقوننی (البداية والنهاية لابن كثير ، الجزء الرابع ، صفحه ١۶٢) خدا کی قسم جس چیز کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے بارے میں تو میں کبھی اللہ سے توبہ نہ کروں گی۔ خدا کی قسم میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اگر میں لوگوں کی کہی ہوئی بات کا اقرار کروں گی، اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں، تو میں ایسی بات کہوں گی جو واقع نہیں ہوئی ۔ اور اگر میں ان کی بات کا انکار کرتی ہوں تو آپ لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے (ترجمہ) ابن سلسلہ میں دوسری اہم تر بات یہ ہے کہ عائشہ صدیقہ کے خلاف یہ بیہودہ الزام ایک مہینہ سے زیادہ مدت تک مدینہ میں گو نجتا رہا۔ لوگ اس انتظار میں تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح حکم آئے جو اس معاملہ میں تمام شکوك کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ لمبے انتظار کے بعد آخر کار سورہ النور اتری مگر قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خود سورہ النور میں بھی براہ راست تردید کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جس کا مطالبہ الزام لگانے والوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا۔ اس کے برعکس قرآن میں بالواسطہ تردید کا انداز اختیار کرتے ہوئے صرف یہ الفاظ نازل ہوئے : ان الذين جاؤا بالا فك عصبة منكم ( النور ١١) یعنی جو لوگ یہ افک لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues