Al-Risala · March 1999 · page 49

شیطانی وسوسہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹

گروہ ہے۔ قرآن کے اس اسلوب سے ایک اہم شرعی مسئلہ معلوم ہوتا ہے جس کی وضاحت بعض مفسرین نے اپنی کتاب میں کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانامامین احسن اصلاحی اپنی تفسیر میں اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: افک ، جھوٹی، من گھڑت، خود تراشیدہ اور خلاف حقیقت بات کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے اشارہ اس فتنے کی طرف ہے جو غزوہ بنی مطلق کے موقع پر منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو متہم کرنے کے لئے برپا کیا۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر بھی زبان پر لانا گوارا نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کی طرف لفظ افک سے اشارہ کرکے اس کو نظر انداز کر دیا (تدبر قرآن، جلد چہارم صفحہ ۵۱۴) معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ کے معاملہ میں قرآن میں براہ راست تردید کا انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ مثلاً قرآن میں اس سلسلہ میں اس طرح کے صریح الفاظ نہیں آئے کہ : ماقارفٹ عائشہ بلکہ صرف بالواسطہ انداز میں اس کو افک قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اسی طرح خود حضرت عائشہؓ کے ذوق ایمانی نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے اپنی زبان سے براہ راست تردید کریں۔ مثلاً وہ اپنی زبان سے اس قسم کے الفاظ بولیں کہ: واللہ ما قارفٹ اس معاملہ میں مومنین و صالحین کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ علامہ ابن عبد البر نے اپنی کتاب (جامع بیان العلم و فضله، جزء ثانی صفحه ۹۵) میں لکھا ہے کہ طاؤس اور وہب ابن منبہ تابعی (وفات ۱۱۴ھ) دونوں ملے۔ طاؤس نے وہب سے کہا۔ اے ابو عبد اللہ میں نے آپ کے بارے میں ایک سنگین بات سنی ہے۔ انھوں نے پوچھا کیا بات۔ طاؤس نے کہا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اللہ ہی تو تھا جس نے قوم لوط کو ایک دوسرے پر سوار کیا۔ وہب نے یہ سن کر کہا۔ اللہ کی پناہ۔ پھر وہ چپ ہو گئے۔ میں نے پوچھا کیا دونقوں میں کوئی بحث ہوئی۔ راوی نے کہا نہیں ( روینا ان طاؤسا ووهب ابن منبہ التقیا فقال طاؤس لؤهب یا ابا عبدالله بلغني عنك امر عظيم فقال ماهو. قال تقول ان الله حمل قوم لوط بعضهم على بعض . قال اعوذ بالله . ثم سكتنا . قال فقلت هل اختصما ، قال لا ) اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page