شیطانی وسوسہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۵۰
واضح اور ثابت شدہ شرعی اصول کے باوجود جو لوگ ایک بیہودہ الزام کے بارے میں براہ راست تردید کا مطالبہ کریں وہ خود اپنے بارے میں اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیمات سے اور اس کی روح سے بالکل بے خبر ہیں۔ وہ اس معاملہ میں اسلام کے ثابت شدہ اصول کو نہیں جانتے۔ وہ یہ کہ بیہودہ قسم کے الزام کے بارے میں جب زیر الزام شخص یہ کہہ دے کہ استغفر اللہ، یہ ایک لغو اور بے بنیاد بات ہے تو اسی پر معاملہ کو ختم ہو جانا چاہئے۔ زیر الزام شخص کی زبان سے ایسا جملہ سننے کے بعد سائلین یا معترضین پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ چپ ہو جائیں نہ کہ نئے نئے شوستے نکال کر اس کے بعد بھی وہ اپنے الزام کو دہراتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ وضاحت کے بعد ان پر لازم ہے کہ وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ اگر بالفرض اب تک وہ مجرم نہ ہوں تو مذکورہ وضاحت کے باوجود ان کا عدم اعتراف یقینی طور پر انہیں مجرم بنا دے گا۔ اس طرح کے معاملہ میں کھلے اعتراف سے کم کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں۔ مذکورہ قرآنی اصول کے مطابق، زیر الزام شخص کی طرف سے صرف بالواسطہ تردید ہی کافی ہے۔ اس کے بعد ساری ذمہ داری ان لوگوں کی طرف چلی جاتی ہے جنھوں نے بے بنیاد طور پر کسی شخص کے اوپر بیہودہ الزام لگایا تھا۔ یہ لوگ چونکہ براہ راست زبان میں الزام تراشی کے مجرم بنے تھے اس لئے اس کے بعد انھیں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اب براہ راست زبان میں اپنی مجرمانہ غلطی کا اعتراف کریں۔ اگر وہ اس کے بعد بھی کھلا اعتراف نہ کریں تو وہ دہرا مجرم قرار پائیں گے۔ پہلے اگر انھوں نے سادہ طور پر صرف گناہ کا فعل کیا تھا تو اب وہ بے اعترافی کے نتیجہ میں اپنے گناہ پر سرکشی کا اضافہ کریں گے۔ گناہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل معافی ہو سکتا ہے مگر سرکشی یقینی طور پر قابل معافی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues