Al-Risala · April 1999 · page 4

خطرناک کھیل

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴

خطرناک کھیل

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا يرمى رجل رجلا بالفسق ولا يرميه بالكفر الا ارتدت عليه ان لم يكن صاحبه كذلك مسند الامام احمد بن حنبل الجزء الخامس، صفحه ۱۸۱) جب بھی ایک آدمی دوسرے آدمی پر کافر یا فاسق ہونے کا الزام لگاتا ہے تو ضرور یہ الزام خود قائل کی طرف لوٹ آتا ہے اگر دوسرا آدمی ویسانہ ہو۔ ایک واعظ اگر نام کے تعیین کے بغیر نصیحت کرے اور یہ کہے کہ لوگوں کا کیا حال ہو گیا ہے کہ وہ کفر اور فسق جیسے اعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی عمومی نصیحت کی مثال خود رسول اللہ ﷺ کے یہاں پائی جاتی ہے۔ لیکن نام کے تعین کے ساتھ اگر کسی کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ کافر ہے یا فاسق ہے یا مرتد ہے یا بت پرست ہے، تو یہ ایک بے حد خطرناک کھیل ہو گا۔ ایسا قول اگر اللہ کے علم کے مطابق شخص مذکور کے لئے درست نہ قرار پاتا ہو تو وہ فضا میں تحلیل نہیں ہو گا بلکہ وہ لوٹ کر خود قائل کی طرف آ جائے گا۔ یعنی قائل نے دوسرے شخص پر جو الزام لگایا ہے وہی الزام خدا کے رجسٹر میں خود قائل کے خانہ میں لکھ دیا جائے گا۔ اور آخرت میں اس کا انجام برعکس طور پر وہی ہو گا جس کا مستحق اس نے دوسرے کو ٹھہرانے کی کوشش کی تھی۔

یہ بلاشبہ ایک بے حد سنگین بات ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں اس طرح کے سخت الزامی الفاظ بولنے سے آخری حد تک پرہیز کرے۔ اس طرح کے معاملات میں بولنے سے زیادہ بہتر ہے چپ رہنا اور اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے لئے بولنا ضروری ہو گیا ہے تو اس پر فرض کے درجہ میں لازم ہو گا کہ وہ کسی کے بارے میں ایسا سخت حکم لگانے سے پہلے اس کے بارے میں ہزار بار سوچے ۔ وہ آخری ممکن حد تک اس کی تحقیق کرے اسی کے ساتھ وہ اس کے بارے میں اہل علم اور اہل تقویٰ سے مشورہ کرے۔ ان سارے تحقیقی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page