Al-Risala · April 1999 · page 5

خطرناک کھیل

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۵

اور احتیاطی مراحل سے گزرنے کے بعد بھی اگر اس کا ضمیر مطمئن ہو کہ اس معاملہ میں اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بولے اور اپنے اس قول کی بنا پر وہ اللہ کے یہاں پکڑا نہیں جائے گا تو اس کے بعد وہ بول سکتا ہے۔ اگر چہ پھر بھی مذکورہ اندیشہ بدستور باقی رہے گا۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں مومن کی ذمہ داری نصیحت اور تبلیغ ہے نہ کہ دوسروں کے بارے میں کافر اور فاسق اور مرتد اور بت پرست ہونے کا اعلان کرنا۔

آسٹریلیا کا ایک قدیم ہتھیار ہے جو بومیرینگ (boomerang) کہا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ پھینکنے کے بعد اگر وہ نشانہ پر نہ لگے تو وہ خود پھینکنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔ اسی سے بومیرینگ افیکٹ کی اصطلاح بنی ہے۔ اس سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو خود عامل کے اوپر الٹا پڑے۔

اس اصطلاح کو اگر استعمال کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کو کافریا فاسق یا مرتدیا بت پرست کہنا ایک بومیرینگ کھیل ہے۔ یہ ایک ایسا خطر ناک پتھر ہے جو اگر نشانہ پر نہ لگے تو وہ خود پھینکنے والے پر آ کر گرے گا۔

عباسی خلافت کے دور میں عقلی بحثوں کا ہنگامہ شروع ہوا۔ اشاعرہ اور معتزلہ اور متکلمین کے درمیان غلو کی حد تک شدید بحثیں جاری ہو گئیں۔ ہر ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین الفاظ بولنے لگا۔ مثلاً اہل نقل نے اہل عقل کے خلاف فتویٰ دیا کہ من منطق فقد تزندق (جس نے علم منطق سیکھا وہ زندیق ہو گیا) دوسری طرف اہل عقل (معتزلہ) نے یہ کہنا شروع کیا کہ جو شخص قرآن کو قدیم مانے وہ کافر ہے۔

تکفیر و تفسیق کا یہ ہنگامہ کئی سو سال تک جاری رہا یہاں تک کہ علما کے درمیان عقائد کا یہ مسئلہ مسلمہ طور پر مان لیا گیا کہ: لا تكفر أحداً من أهل القبلة (اہل قبلہ میں سے کسی کو ہم کافر نہیں کہتے) یعنی جو شخص قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page