Al-Risala · April 1999 · page 6

خطرناک کھیل

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۶

ہے کسی بھی حال میں اس کی تکفیر نہ کرو کیوں کہ ایسا نہ کوئی مسلمان نہ کبھی ہوا اور نہ کبھی ہو سکتا جو کعبہ کے بجائے کاشی یا ویٹن کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی کو کافریا مرتدیا بت پرست کہناسرے سے کوئی دینی کام ہی نہیں۔ اسلام میں عمل کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کافریا مرتدیا بت پرست وہ آدمی ہے جو اپنی نیت کے اعتبار سے اس قسم کا برا فعل کرے ، اور نیت کا علم چونکہ صرف خدا کو ہے اس لئے کسی اور کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ دوسروں پر اس قسم کا الزامی ٹھپہ لگانا شروع کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا الزامی ٹھپہ لگانا سادہ طور پر صرف ایک گناہ نہیں ہے، بلکہ وہ بدترین قسم کی سرکشی ہے۔ وہ خدا کے قلم کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش ہے۔ جو آدمی ایسی کوشش کرے وہ خدا کے قلم کو حاصل کرنے میں تو کامیاب نہیں ہو گا، البتہ وہ خدا کے یہاں سرکشی کا مجرم قرار پائے گا اور جو سزا وہ دوسرے شخص کو دینا چاہتا تھا، اس کو وہ خود زیادہ بری شکل میں بھگتنے پر مجبور ہو جائے گا۔

مومن کا کام تکفیر نہیں ہے بلکہ تبلیغ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو نظر آئے کہ فلاں شخص کے اندر ایک برائی پیدا ہو گئی ہے تو آپ اس سے ملیں اور خیر خواہی اور نصیحت کے انداز میں اس کو سمجھائیں۔ اس کی اصلاح کے لئے خدا سے دعا کریں۔ حتی کہ اگر وہ آپ کے کہنے پر اصلاح قبول نہ کرے تب بھی آپ کے لئے جائز نہیں کہ آپ اس کے خلاف تکفیر کا فتویٰ جاری کریں۔ مومن کا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔ اس کے بعد بقیہ معاملات کا تعلق خدا سے ہے وہی جس کو چاہے گا سزا دے گا اور جس کو چاہے گا بخشش سے سرفراز کرے گا۔ تکفیر و تفسیق کا ہنگامہ صرف وہی شخص جاری کر سکتا ہے جس کا سینہ خدا کے خوف سے خالی ہو۔ جو آدمی خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کا طریقہ ہمیشہ احتساب خویش کا ہوتا ہے نہ کہ احتساب غیر کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page