Al-Risala · January 1999 · page 17

حکمتِ نبوی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷

حکمتِ نبوی

پیغمبر اسلام ﷺ کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ آپ صاحبِ حکمت تھے اور لوگوں کو حکیمانہ روش اختیار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کے بہت سے اقوالِ حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے فرمایا: لا حسد الا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، وآخر آتاه الله حكمة فهو يقضى بها ويعلمها (فتح الباری، بشرح صحیح البخاری (۱۲۸/۱۳ یعنی حسد نہیں سوادو قسم کے آدمیوں پر۔ ایک وہ آدمی جس کو اللہ نے مال دیا تو وہ اس کو حق کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ اور دوسرا آدمی وہ جس کو اللہ نے حکمت دی تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور کہا کہ اے اللہ اس کو حکمت عطا فرما (ضمنى النبی ﷺ الى صدره وقال اللهم علمه الحكمة) فتح الباری ١٢٦/٧ اسی طرح اور بہت سی روایتیں ہیں جن سے حکمت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نعم المجلس مجلس ينشر فيه الحكمة (الدارمی مقدمہ) یعنی کیا ہی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت کی بات کی جائے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ ليس هدية افضل من كلمة حكمة (الدارمی، مقدمه) یعنی حکمت کی بات سے زیادہ افضل کوئی تحفہ نہیں۔

حکمت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی بابت یہ تعلیم دی گئی کہ دوسری قوموں میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page