an excess of everything is bad
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
لیکن خود اعتمادی اگر کسی کو غیر حکیمانہ اقدام تک لے جائے تو وہ ناپسندیدہ نہ ہوگا۔ عزتِ نفس اور خود داری بلاشبہ ناپسندیدہ اعمال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر عزتِ نفس کسی کو اس حد تک لے جائے کہ وہ اس کے لئے اپنی غلطی کے اعتراف میں رکاوٹ بن جائے تو وہ بھلائی نہیں رہے گی بلکہ ایک برائی بن جائے گی۔
اسی طرح یہ ایک اچھی صفت ہے کہ آدمی کسی کی مدد نہ لے، وہ کسی کا احسان لینا گوارہ نہ کرے، وہ اپنی کفالت آپ کرنا چاہے۔ لیکن کسی کا یہ مزاج اگر اس کے اندر فخر اور بڑائی کا جذبہ پیدا کرنے کا سبب بن جائے تو یہ اس کے حق میں ایک بری عادت ہوگی نہ کہ کوئی اچھی عادت۔ آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلا اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہے، اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے۔ بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔ ۔۔۔ اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دیدے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دیئے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔
اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی تعلیم کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے تو وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues