Al-Risala · April 1999 · page 10

ترکی کا سبق

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰

ترکی کا سبق

بیسویں صدی کے آخر میں یورپ ایک نئی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ یورپین یونین کی صورت میں یہ براعظم از سر نو متحد ہو گیا ہے۔ یورو کے نام سے یورپ کی ایک مشترک کرنسی وجود میں آئی ہے جو امریکی ڈالر کے اقتصادی غلبہ کو چیلنج کر رہی ہے وغیرہ۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ترکی یورپ ہی کا ایک جغرافی جزء ہے۔ اس کے باوجود وہ اس یورپی ترقی میں حصہ دار نہ بن سکا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ترقی کے اس معیار پر پورا نہیں اترتا تھا جو یورپین یونین کا ممبر بننے کے لئے ضروری ہے۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں ترکی میں اصلاحی تحریکوں کا زبردست ہنگامہ جاری رہا ہے۔ پھر نصف صدی کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود یہ ناکامی کیوں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے۔ صحیح نقطہ آغاز سے اپنا سفر شروع نہ کرنا۔

ترکی میں کئی سو سال سے طاقتور مسلم خلافت قائم تھی۔ مگر ہر کمالے را زوال کے اصول پر اس کو تنزل ہوا۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر ترکی کی عثمانی خلافت اپنے آخری دور زوال میں پہنچ گئی۔ اس زوال کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ ان مسلمانوں کا دینی طبقہ اس قابل نہیں رہا تھا کہ وہ جدید دور کی ایک ریاست کی رہنمائی کر سکے۔ یورپ کے سائنسی اور فکری انقلاب نے زندگی کے تمام نقشوں کو بدل دیا تھا جب کہ ترکی کے علماء ابھی تک قدیم روایتی اور تقلیدی ڈھانچہ میں بند پڑے ہوئے تھے۔

اب ایک نیا طریقہ کار دریافت کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ طریقہ کار یہ تھا کہ علماء نے حالات کی نسبت سے اپنی ناکافی استعداد کا اعتراف کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جائیں۔ یعنی اقدام کے میدان سے ہٹ کر تیاری کے میدان میں آجائیں۔ وہ قوم کی تعلیم و تربیت کو اپنے ذمہ لے کر بقیہ میدان کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالہ کردیں۔ جہاں تک مسجد اور

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page