ترکی کا سبق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
مدرسہ اور اس طرح کے دوسرے تعمیری اداروں کا معاملہ ہے وہ بھر پور طور پر اس کا انتظام سنبھال لیں۔ وہ اپنی ساری کوششوں کو اس ایک کام پر مرکوز کر دیں کہ انھیں ترکی کی مسلم قوم کو از سر نو بیدار کرنا ہے۔ اس کے اندر پھر سے اسلامی اسپرٹ جگانا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس مردہ زمین کو پھر سے زندہ کرنا ہے (الحدید ۱۷) تا کہ وہ دوبارہ اسلامی فصل اگانے کے قابل ہو جائے۔ اس کے بعد جہاں تک سیاسی اور حکومتی دائرہ کا تعلق ہے وہ اس کو جمہوری عمل پر چھوڑ دیں یعنی مقررہ مدت پر آزاد اور منصفانہ انتخاب ہو اور پھر اس انتخاب میں جو گروہ جیتے وہ دستور کے تحت مقرر مدت تک حکومت کا نظام چلائے۔
ترکی کے علماء اور رہنماء اس عملی تقسیم پر اگر راضی ہو جاتے تو پچاس سال بعد آج ترکی دوبارہ ایک عظیم طاقت بن چکا ہوتا۔
مذکورہ معاملہ ان کے لئے پسپائی کا معاملہ نہ تھا بلکہ صرف وقتی قسم کی ایک عملی تدبیر کا معاملہ تھا۔ یہ گویا تیاری کا ایک وقفہ تھا جو انھیں اس قابل بنا دیتا کہ وہ آئندہ زیادہ موثر اقدام کر کے زندگی کے جدید نقشہ پر از سر نو اسلام کی برتری قائم کردیں۔ مگر ترکی کے دینی رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے اور ترکی کی غیر ضروری طور پر ایک تباہ کن داخلی ٹکراؤ کا شکار ہو کر رہ گیا جس کو عام طور پر اسلام ازم اور کمال ازم کا ٹکراؤ کہا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے یہی واقعہ دوسرے اکثر مسلم ملکوں میں بھی پیش آیا۔ مثلاً مصر، شام، پاکستان، ایران، افغانستان وغیرہ۔ ان تمام مسلم ملکوں میں اسلامی انقلاب کے نام پر پر شور تحریکیں چلائی گئیں مگر نصف صدی کی خونی کوششوں کے باوجود کہیں بھی کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا۔ قطب ازم، خمینی ازم اور مودودی ازم بھی اپنے نتیجہ کے اعتبار سے اسی طرح تباہ کن ثابت ہوا جس طرح کمال ازم۔ ان تباہیوں کا مشترک سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے حقائق پر مبنی طریق کار اختیار کرنے کے بجائے صرف جذبات کے زیر اثر اپنے کام کا نقشہ بنانا۔ نام نہاد اسلامسٹ گروہ نے جو نقصان پہنچایا وہ کمالسٹ گروہ سے بھی کہیں زیادہ تھا۔ کمالسٹ گروہ نے جو
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues