مثبت فکر
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
مثبت فکر
دور اول کے مسلمانوں نے جو بے نظیر کامیابی حاصل کی اس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان میں کا ہر فرد مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا مالک تھا۔ وہ، قرآن کے مطابق عسر میں یسر کا پہلو تلاش کر لیتا تھا۔ وہ بظاہر شکست کے واقعہ میں فتح کار از دریافت کر لیتا تھا۔ اس کے لئے پوری دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مثبت خوراک کا دستر خوان بن گئی تھی۔۔ مسلمانوں کا یہی مزاج تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں جب مسلم سلطنتیں اہل مغرب کے ہاتھوں ٹوٹ گئیں تو اس کے بعد جو مسلم رہنما اٹھے وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔ انہوں نے دور جدید کی مسلم نسلوں کو احتجاجی ذہن میں مبتلا کر دیا۔ ساری دنیا کے مسلمان ، خواص اور عوام دونوں احساس محرومی (persecution complex) میں مبتلا ہو گئے۔ اس نازک تاریخی موقع پر مسلم رہنماؤں کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا گئے جس کو انگریزی میں پیرانویا (paranoia) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہی کار استہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار کر لیں گے اور اگر وہ فلاح کار استہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار نہ کریں گے (الاعراف۔ ١٤٦) اس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ لوگ منفی پکار کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں، مگر مثبت پکار کی طرف وہ اس طرح نہیں دوڑتے اس کا سبب یہ ہے کہ منفی کلام حال کی زبان میں ہوتا ہے اور مثبت کلام ہمیشہ مستقبل کی زبان میں، اور تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ مستقبل کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور حال کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت زیادہ۔ اس دنیا میں ہر قسم کی ناکامیوں کار از منفی طرزِ فکر ہے اور ہر قسم کی کامیابی کار از مثبت طرز فکر۔ منفی طرزِ فکر ہر قسم کی دینی اور اخلاقی برائیوں کا سر چشمہ ہے اور مثبت طرزِ فکر اس کے مقابلے میں ہر قسم کے دینی اور دنیوی خیر کا سر چشمہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues