ترکی کا سبق
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
کچھ کیا وہ سیکولرزم کے نام پر کیا، اس لئے ان کے احمقانہ عمل سے جو بدنامی ہوئی وہ بھی سیکولر ازم کے حصہ میں آئی۔ اس کے بر عکس اسلامسٹ گروہ نے اپنی ساری تحریک اسلام کے نام پر چلائی اس لئے ان کی تحریک جب نقصان اور تباہی پر پہنچ ہوئ تو اس کی ساری ذمہ داری اسلام کے اوپر چلی گئی۔ کمالسٹ گروہ نے اگر غیر اسلام کو بد نام کیا تھا تو اسلامسٹ گروہ نے خود اسلام ہی کو سنگین طور پر بد نام کر ڈالا۔
اسلام کے نام پر کوئی تحریک چلانا انتہائی سنگین قسم کی ذمہ داری ہے اس لئے کہ اگر وہ تحریک درست نہ ہو یا وہ مہلک نتائج پیدا کرے تو اس کی ساری ذمہ داری اسلام کے سر پر چلی جائے گی۔ ایسے لوگ اپنے دعوئی کے مطابق تو اسلام کے لئے اٹھیں گے مگر عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ صرف اسلام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ پچھلے زمانہ میں علماء اور صلحاء جو تحریکیں چلاتے تھے وہ اس معاملہ میں سخت احتیاط کرتے تھے۔ یہ صرف موجودہ زمانہ کا ایک مظہر ہے کہ لوگ آئے دن ایک ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں اور اس کا نام اسلام رکھ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج لوگوں کے دل خدا کے خوف سے خالی ہو گئے ہیں۔ خدا سے ڈرنے والے لوگ کبھی اس قسم کے ہنگامے کھڑا کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ یہ سب بے خوفی کی مثالیں ہیں نہ کہ خوف خدا کی مثالیں ۔ ایک شخص وضو اور طہارت کی شرطوں کو پورا نہ کرے اور کھڑے ہو کر نماز کی ظاہری صورت کو دہرانے لگے تو اس کی نماز نماز نہ ہوگی، ایسی نماز پر کسی کو کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ یہی معاملہ اسلامی تحریک یا اسلامی جہاد کا بھی ہے۔ اس کی بھی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کو پورا کئے بغیر اگر کوئی شخص اسلامی تحریک کے نام پر ایک ہنگامہ کھڑا کرے یا اسلامی جہاد کے نام پر توڑ پھوڑ شروع کر دے تو اس کا یہ عمل نہ اسلامی تحریک ہو گا اور نہ اسلامی جہاد۔ اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ ایسے کسی عمل کا وہ مطلوب نتیجہ بر آمد ہو جو اسلامی تحریک یا اسلامی جہاد کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues