ترقی کا راز
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵
صاحب نے اس لڑکے کو وہ سردس دلادی۔ لیکن محمد حنیف صاحب کو اس بات کا کافی احساس تھا لہذا انہوں نے اس کو نالی صاف کرنے اور جھاڑو لگانے کے بجائے دفتر میں ڈسٹنگ کے کام پر لگا دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد محمد حنیف صاحب کا اس دفتر سے تبادلہ ہو گیا اور ان کی جگہ ایک ہندو افسر آگیا۔ اس کے بعد ایک دن اچانک وہ لڑکا محمد حنیف صاحب کے گھر آیا، اس نے بتایا کہ ہم کو دوبارہ نالی کی صفائی اور جھاڑو لگانے کا کام آپ کے جانے کے بعد دے دیا گیا ہے، جس سے آپ نے مجھے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ محمد حنیف صاحب کو اس کا ملال ہوا اور انہوں نے مذکورہ ہندو افسر سے ٹیلیفون پر اس لڑکے کے بارے میں بات کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ اس لڑکے کی صفائی اور جھاڑو کے بجائے ڈسٹنگ کے کام پر ہی لگا رہنے دیں۔ محمد حنیف صاحب کے کہنے پر نئے افسر نے اس کو ڈسٹنگ کے کام پر بحال کر دیا۔
محمد حنیف صاحب اپنے دفتر میں ہر ایک کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے ملازمین سے لے کر بڑے افسروں تک ہر آدمی ان کی عزت کرتا ہے۔
اسی طرح محمد حنیف صاحب اپنی سرکاری خدمات کو پوری دیانت داری کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ برسوں کے تحت ان کو بار بار مزید مالی فائدے حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ مگر محمد حنیف صاحب اس قسم کی آمدنی سے مکمل طور پر دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی جائز تنخواہ کے دائرہ میں زندگی گزارتے ہیں اور ناجائز آمدنی کو کبھی ہاتھ نہیں لگاتے۔
محمد حنیف صاحب کی اس قسم کی صفات ہی ان کا اصل سرمایہ ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جس نے ان کو مذکورہ قومی امتیاز کا مستحق بنایا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ایک مسلمان کے لئے ہر قسم کے اعلیٰ مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کارکردگی کا طریقہ اپنا لے۔ اس کے بعد اس کو اپنے ماحول سے کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues