مسئلہ یا چیلنج
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
مسئلہ یا چیلنج
مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ بے مسئلہ زندگی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں اصل سوال خود مسئلہ کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیش آیا تو آپ نے اس کا مقابلہ کس طرح کیا۔ ایک مفکر نے کہا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو راستہ چل رہا ہے پھر اس کے راستہ میں چٹان آگئی۔ اب وہ اس کوشش میں لگ گیا کہ وہ اس چٹان کو اپنے راستہ سے ہٹا دے تا کہ اس کا سفر آگے کی طرف جاری ہو سکے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کے راستہ میں چٹان آئی تو اس نے یہ کیا کہ وہ چٹان سے ہٹ کر دیکھنے لگا کہ کیا اس کے دائیں یا بائیں کوئی راستہ ہے جس پر چل کر وہ آگے بڑھ جائے اور اس طرح اپنا سفر جاری رکھے۔ ان میں سے پہلا شخص ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور دوسرا شخص ہمیشہ کامیاب۔
مسئلہ کو صرف مسئلہ کے طور پر لینا گویا اپنے عمل کو اس میدان میں محدود رکھنا ہے جہاں مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مسئلہ کو چیلنج کے روپ میں لے ۔ ایسا آدمی مسئلہ کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کے میدان کو بدل دیتا ہے۔ مسئلہ خواہ کتنا ہی سنگین ہو وہ آدمی کے لیے صرف ایک راستہ کو بند کرتا ہے جب کہ عین اسی وقت دوسرے بہت سے راستے اس کے لیے کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسئلہ کو مسئلہ کے طور پر لینا گویا بند راستہ میں بے فائدہ طور پر اپنی کوشش کو ضائع کرنا ہے۔ اس کے برعکس مسئلہ کو چیلنج کے طور پر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے ایک مقام پر راستہ کو بند دیکھ کر اپنا راستہ نہیں روکا بلکہ اس نے دوسرے کھلے ہوئے راستے سے اپنی زندگی کا سفر شروع کر دیا۔ آپ طوفان کو روک نہیں سکتے البتہ اپنا گھر اس طرح بنا سکتے ہیں کہ جب طوفان آئے تو آپ اس کی زد سے محفوظ رہیں۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ آپ مسائل کو دنیا سے ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ آپ مسائل کے باوجود زندہ رہنا سیکھیں، آپ مسائل سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے لیے کامیابی کا راستہ نکال لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues