Al-Risala · April 1999 · page 18

حسد کا نقصان

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸

اس وقت دیکھ پاتے ہیں جب کہ وہ اس قدر واضح ہو چکی ہو کہ کسی شخص کے لئے اس کا انکار ممکن ہی نہ رہے۔

اس دنیا کا نظام امتحان کے اصول پر بنایا گیا ہے یہاں کی ہر چیز اسی امتحانی مصلحت کے تابع ہے۔ اس دنیا میں کوئی آدمی آپ سے چھوٹا ہوتا ہے اور کوئی آدمی آپ سے بڑا۔ یہ دونوں قسم کے آدمی آپ کے لئے یکساں طور پر امتحان کا پرچہ ہیں۔ وہ اس لئے ہیں تاکہ وہ آپ کی آزمائش بنیں۔ اگر آپ ان کے مقابلہ میں صحیح رویہ اختیار کریں تو آپ کو انعام دیا جائے اور اگر آپ غلط رویہ اختیار کریں تو آپ سزا کے مستحق قرار پائیں۔

آپ کا امتحان یہ ہے کہ جب آپ کا سابقہ ایسے آدمی سے پڑے جو آپ سے چھوٹا اور کم ہو تو آپ اس کی عزت کریں۔ آپ اس کو وہی انسانی مرتبہ دیں جو آپ اپنے لئے چاہتے ہیں چھوٹے آدمی کو عزت دینا اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بڑا بنانا ہے۔

اسی طرح جو آدمی آپ سے بڑا یا زیادہ ہو اس کے مقابلہ میں آپ کا امتحان یہ ہے کہ آپ اس سے حسد نہ کریں آپ اس کے فضل و کمال پر جلن میں مبتلا نہ ہوں۔ بلکہ اس کو جو کچھ ملا ہے اسے خدا کا عطیہ سمجھیں۔ اس کی حیثیت کا دل سے اعتراف کریں اور اگر ضرورت ہو تو اس کا ساتھ دے کر خود بھی نیکی میں شریک ہو جائیں۔

کمتر آدمی کو بے عزت کرنا اور برتر آدمی سے حسد کرنا بظاہر دوسرے کے خلاف ہوتا ہے۔ مگر اس کا نقصان خود اپنے آپ کو پہنچتا ہے۔ ایسا ہر رویہ خود اپنے خلاف ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کے خلاف۔

مادی پہلو سے کسی کو اپنے سے چھوٹا پا کر اس کو حقیر سمجھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پرچہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو اپنے سے بڑا پا کر اس سے حسد کرے تو یہ بھی کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا کھلا ہوا مطلب یہ ہے کہ اس آدمی کو خدا نے جو امتحانی پرچہ دے کر آزمایا تھا اس میں وہ بری طرح ناکام ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page