Al-Risala · April 1999 · page 19

پیغمبر کی شخصیت

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹

پیغمبر کی شخصیت

ہر انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک نفسیاتی وجود رکھتا ہے، اسی طرح پیغمبر اسلام بھی اپنی ابتدائی حیثیت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی وجود تھے۔ آپ انھیں جذبات اور احساسات کے ساتھ پیدا ہوئے جس طرح کوئی انسان پیدا ہوتا ہے۔ پھر آپ نے اپنے اس پیدائشی وجود کو ایک ربانی وجود میں تبدیل کیا۔ اس لحاظ سے پیغمبر اسلام کا نفسیاتی مطالعہ بے حد اہم ہے۔ اس طرح ایک عملی مثال کی صورت میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی پیدا ہونے والا انسان اپنی شخصیت کی تعمیر کس طرح اور کس رخ پر کرے، کس طرح وہ عام انسان سے بلند ہو کر اپنے آپ کو ایک ربانی انسان بنائے۔

ہمارا یہ مطالعہ ۶۱۰ء سے شروع ہوتا ہے۔ جب کہ مکہ میں آپ پر پہلی بار خدا کی وحی اتری۔ یہ آپ کے لئے ایک انوکھا روحانی تجربہ تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ جب آپ کو فرشتہ کے ذریعہ خدا کا کلام ملا تو آپ پر دہشت طاری ہوگئی۔ آپ غار حرا سے نکل کر اپنے گھر واپس آئے۔ اور اپنی اہلیہ خدیجہ سے فرمایا کہ مجھ کو اڑھاؤ، مجھ کو اڑھاؤ۔ اس کے بعد آپ بستر پر لیٹ گئے۔ اور حضرت خدیجہ نے آپ کے اوپر چادر اڑھادی (فتح الباری ۳۰/۱)

پہلی وحی کے بعد پیغمبر اسلام پر یہ کیفیت کیوں طاری ہوئی، اس کے بارے میں ابن حجر العسقلانی نے علما کے بارہ اقوال نقل کئے ہیں (صفحہ ۳۳) مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ معاملہ احساس ذمہ داری کی بنا پر پیش آیا۔ نبوت کا مطلب یہ تھا کہ آپ اس زمانہ کے مشرک انسانوں کو توحید کا پیغام دیں۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ اس کی مشکلات کے احساس نے آپ پر دہشت کی کیفیت طاری کردی۔ آپ اس کام کی عظیم ذمہ داریوں کو سوچتے ہوئے چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔ اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر ۷۴ (المزمل) اتری۔ اس سورہ میں آپ کو بتایا گیا کہ جو قول ثقیل (بھاری ذمہ داری) آپ پر نبوت کے ذریعہ ڈالی جارہی ہے اس سے عہدہ برآں ہونے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page