Al-Risala · April 1999 · page 22

حیوانی زندگی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

کنورژن کا مسئلہ اسلام اور کنورژن اسلام کنورژن کی حمایت کرتا ہے۔ مگر اسلام کے نزدیک کنورژن رسمی مفہوم میں محض تبدیلی مذہب (proselytism) کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) یا روحانی تغیر (spiritual transformation) کے نتیجہ میں ایک شخص کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ یہ سادہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچہ سے نکل کر دوسرے مذہبی ڈھانچہ میں جانا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنی تلاش و تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کیا۔ اور پھر اپنے ذاتی فیصلے کے تحت ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے ۶ ھ کے آخر میں اس زمانہ کے پڑوسی حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے تھے۔ ان خطوط میں ان کو اسلام قبول کرنے کی براہ راست طور پر دعوت دی گئی تھی۔ مثال کے طور پر آپ نے باز نطینی حکمراں ہر قل (1-Heraclius) کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس میں یہ الفاظ لکھے۔ ”اسلم تسلم“ (اسلام لاؤ تم سلامتی پاؤ گے) اسی طرح مکہ میں جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہو تا وہاں جا کر آپ فرماتے ”ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا“ (اے لوگو! کہو کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں، تم فلاح پاؤ گے)

یہ بظاہر لوگوں کو مذہب بدلنے کی دعوت تھی۔ مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقہً تبدیلی فکر کی دعوت تھی نہ کہ سادہ طور پر محض مذہب بدل لینے کی۔ اسلام کے دور اول میں عرب کے کچھ دیہاتی لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے جب کہ ان کے اندر گہرے قسم کی کردار ی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ان کے بارے میں قرآن میں یہ سخت آیت اتری۔ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی،

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page