Al-Risala · April 1999 · page 21

حیوانی زندگی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱

حیوانی زندگی

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ۔۔ بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا وہ برت رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جیسے کہ چوپائے کھائیں ، اور آگ ان لوگوں کا ٹھکانا ہے۔ (محمد ۱۲)

انسان اور جانور حیاتیات کے اعتبار سے بالکل یکساں ہے۔ دونوں کے درمیان حیاتیاتی پہلو سے کوئی حقیقی فرق نہیں۔ پھر وہ کیا چیز ہے جو حیوان کو حیوان بناتی ہے اور انسان کو انسان کا درجہ عطا کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فرق ہے، اور وہ یہ کہ انسان کو جو اعلیٰ ذہنی صلاحیت ملی ہوئی ہے وہ حیوان کو حاصل نہیں۔

حیوان صرف اپنی مادی ضروریات کے دائرے میں سوچتا ہے۔ کھانا، پانی، تحفظ اور بقا لئے نسل جیسی سادہ ضرورتیں ہی اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہیں۔ اس قسم کی ضرورتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔

مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اعلیٰ ذہنی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ جبلت (انسٹنکٹ) سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، وہ مادیات سے اوپر اٹھ کر جینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو آدمی اپنی ذہنی صلاحیتوں کو صحیح رخ پر استعمال کرے اور اپنے آپ کو ایک بلند تر مقصد حیات میں لگائے، وہی حقیقی معنوں میں انسان ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی مادی ضرورتوں کے دائرے میں محدود ہو کر رہ جائے، وہ صرف ایک حیوان کی مانند ہے۔ اس میں اور حیوان میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔

وہی انسان حقیقی انسان ہے جو اپنی سوچ اور اپنے کردار کے اعتبار سے اعلیٰ انسانی سطح پر زندگی گزارے۔ یہی وہ انسان ہے جس نے اپنے بارے میں خالق کے منصوبہ کو پورا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page