Al-Risala · April 1999 · page 24

حیوانی زندگی

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴

قرآن کے مطابق تبدیلی مذہب سے مراد کیا ہے۔ اس کا اندازہ چند آیتوں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جب کہ تقریبا ستر عیسائیوں کے ایک مجمع میں قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں۔ اس کو سن کر وہ لوگ تڑپ اٹھے اور اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور جب انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ (المائدہ ۸۳۔۸۴)

اسی طرح قرآن میں ایمان لانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے۔ (الانفال ۲۔۴)

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک تبدیلی مذہب حقیقت میں وہ ہے جو معرفت (realisation) کے نتیجہ میں پیش آئی ہو، جب کہ ایک انسان کی تلاش حق اپنی تلاش کا قابلِ یقین جواب پالے۔ یہ پانا اس کے لئے اتنا گہرا تجربہ ہو کہ اس کا دل تڑپ اٹھے۔ اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔ اس کا پورا وجود اس سچائی کے رنگ میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا اور بالکل مختلف انسان بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کنورژن کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page