حیوانی زندگی
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵
کنورزن کے معاملہ کو بتانے کے لئے دوسرے زیادہ با معنی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن جس دعوتی مشن کے تحت اتارا گیا ہے اس کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے : بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ (المائدہ ۱۵-۱۶)
اسی طرح جو لوگ قرآن کے مطالعہ سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے ، کیا وہ اس کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت تو عقل والے لوگ ہی قبول کرتے ہیں (الرعد ۱۹) اس آیت کے مطابق ، حقیقی کنورزن وہ ہے جو علم کی سطح پر واقع ہو، جس میں آدمی یہ محسوس کرتا ہو کہ وہ نہ جاننے کے مرحلہ سے نکل کر جاننے کے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ اسی لئے حدیث میں داخلہ اسلام سے پہلے کے دور کو ” جاہلیت “ کہا گیا ہے، یعنی بے خبری کا دور۔
اسی طرح قرآن میں مومن اور غیر مومن کے فرق کو موت کے بعد زندگی پانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ : کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔ (الانعام ۱۲۳)
اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ زمین کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین ہری بھری فصل سے لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے دلوں میں استعداد ہے وہ سچائی کو پا کر جاگ اٹھتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے: اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues