Al-Risala · January 1999 · page 20

توہین کو برداشت کرنا

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

چھوڑ دو اور ایک خدا کی پرستش کا طریقہ اختیار کرو، تم فلاح پاؤ گے۔ اس وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے اس کو توحید کے مرکز کے طور پر بنایا جاتا۔ مگر اس وقت وہ عملاً شرک و بت پرستی کا مرکز بن گیا تھا۔ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو مختلف راستے تھے۔ ایک یہ کہ کعبہ سے بتوں کو نکال کر وہاں دوبارہ توحید کا ماحول قائم کریں اور اس کو مرکز بنا کر اپنی موحدانہ تحریک چلائیں۔

ایک صورت قولی دعوت سے آغاز کرنے کی تھی۔ اور دوسری صورت عملی اقدام سے آغاز کرنے کی۔ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے، آپ نے عملی اقدام سے مکمل طور پر پر ہیز کیا، اور صرف قولی دعوت کے نہج پر مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن جاری فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت یا اسلامی تحریک کا صحیح پیغمبرانہ طریقہ کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ پہلے پر امن فکری مہم کے ذریعہ لوگوں کی سوچ اور کردار میں تبدیلی لائی جائے ۔ یہ ابتدائی کام جب قابلِ لحاظ حد تک انجام پا جائے ، اس کے بعد حسبِ حالات عملی اقدام کا آغاز کیا جائے۔

توہین کو برداشت کرنا

مشہور سیرت نگار ابنِ اسحق بتاتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کا نام مذمم رکھا تھا۔ پھر وہ آپ کا سب و شتم کرتے تھے۔ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے کس طرح مجھ کو قریش کی ایذا رسانی سے بچالیا۔ وہ سب و شتم کرتے ہیں اور ایک مذمم شخص کی ہجو کرتے ہیں اور میں محمد ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page