توہین کو برداشت کرنا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
وكانت قريش انما تسمی رسول الله ﷺ مذمما ثم يسبونه فكان رسول الله ﷺ يقول: ”الا تعجبون لما صرف الله عنی من اذی قريش يسبون ويهجون مذمما وانا محمد“ (سيرت ابن هشام (۱/ ۳۷۹)
پیغمبر اسلام ﷺ کا اصل نام محمد تھا جس کا مطلب ہے تعريف کيا ہوا۔ مکی دور میں جب قريش کو آپ کے ساتھ عناد پيدا ہوا تو انھیں پسند نہيں آيا کہ وہ آپ کو محمد (تعريف کیا ہوا) جیسے نام سے پکاریں۔ انھوں نے اپنے جذبہ عناد کی تسکین کے لئے بطور خود آپ کا نام مذمم رکھ دیا جس کے معنی ہیں مذمت کیا ہوا۔ قريش جب آپ کو برا بھلا کہتے تو وہ آپ کے لئے محمد کا لفظ استعمال نہ کرتے بلکہ وہ مذمم کا لفظ بول کر آپ کو برا بتاتے۔ حتیٰ کہ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے خود آپ کے سامنے آکر کہا: مذمما عصینا (صفحہ ۳۷۹) یعنی یہ مذمم ہیں اور ہم ان کو نہیں مانتے۔
یہ بلاشبہ ایک اشتعال انگیزی تھی اور آپ کی توہین بھی۔ لیکن پیغمبر اسلام نے ایک خوبصورت جواب دے کر اس کو نظر انداز کر دیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مذمم کی سب و شتم کرتے ہیں۔ مگر ان کی سب و شتم میرے اوپر پڑنے والی نہیں کیوں کہ میرا نام محمد ہے نہ کہ مذمم۔
پیغمبر اسلام ﷺ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں عبداللہ بن ابی آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ اس نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر حسد کے جذبہ کے تحت وہ آپ کا شدید مخالف بن گیا۔ آپ کی توہین کرنا، آپ کا سب و شتم کرنا اور آپ کے خلاف بری باتیں پھیلانا اس کا سب سے بڑا مشغلہ بن گیا۔ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ سب سے بڑا شاتم رسول تھا۔ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues