مراقبہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
سوال
آپ کہتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ مگر قرآن میں اس کا بالکل الٹا ہے۔ قرآن میں مسلمانوں کو قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ مشرکوں کو جہاں پاؤ ان کو مارو۔ قرآن اسلام کی مقدس کتاب ہے۔ پھر اسلام امن کا مذہب کیسے ہو سکتا ہے (بینکٹھیلال شرما پریم، نئی دہلی) جواب قرآن میں جہاں قاتلوا المشرکین کا حکم آیا ہے، وہ عام معنی میں نہیں ہے، بلکہ خاص معنی میں ہے۔ یعنی اس سے مراد ساری دنیا اور ہر زمانہ کے مشرکین نہیں ہیں بلکہ پیغمبر اسلام کے معاصر مشرکین ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو پیغمبر اسلام کے خلاف جارحیت کر رہے تھے۔ جنھوں نے آپ کے خلاف یک طرفہ طور پر جنگ چھیڑ دی تھی۔ ان سے دفاع کے طور پر لڑنے کا حکم دیا گیا۔ اسلام میں صرف ایک ہی جائز جنگ ہے اور وہ دفاع کی جنگ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور جنگ اسلام میں جائز نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ”فکر اسلامی“)
قرآن میں قتال کے حکم کو آپ گیتا کے تقابلی مقابلہ سے سمجھ سکتے ہیں۔ گیتا ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب ہے۔ اس میں کرشن جی ارجن کو لڑنے پر ابھارتے ہیں۔ وہ ارجن سے کہتے ہیں کہ تم یدھ کے لئے آگے بڑھو۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گیتا اپنے ماننے والوں سے کہتی ہے کہ تم لوگ ہمیشہ اور ہر جگہ دوسری قوموں سے لڑتے رہو۔ تم ہر ایک کے خلاف مار کاٹ کرو۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ گیتا میں کرشن جی کی جنگی تلقین وقتی معنی میں ہے نہ کہ ابدی معنی میں۔ یعنی تمہارے سامنے جو اپناتائی لوگ ہیں ان سے لڑو۔ انھیں پر یہ جنگ شروع ہوئی اور انھیں پر ختم ہو جائے گی۔ اسی طرح قرآن میں جس جنگ کا حکم ہے وہ پیغمبر کے زمانے کے ایک جارح گروہ کے خلاف تھی۔ یہ جنگ انھیں پر شروع ہوئی اور انھیں پر ختم ہوگئی۔ بعد کے زمانہ میں اس کا حکم اگر باقی ہے تو صرف جارحیت کرنے والوں کے مقابلہ میں دفاع کے لئے ہے نہ کہ عمومی طور پر لوگوں سے لڑنے مرنے کے لئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues