Al-Risala · April 1999 · page 41

مراقبہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

قرآن کی آیتوں میں بالکل واضح ہے مثال کے طور پر فرمایا کہ ” ان تنصروا اللہ ينصر کم“ (محمد ۷) یعنی اگر تم اللہ والا کام کرنے کے لئے اٹھو گے تو اللہ تمہاری مدد کر کے تم کو کامیاب بنائے گا۔ اس سے واضح ہے کہ مدد کا وعدہ اللہ والے کام پر ہے نہ کہ مسلمانوں کے اپنے قومی کاموں پر۔

سوال

کیا آپ اس حقیقت سے انکار کریں گے کہ ہندوؤں ہی کی طرح انگریز بھی ہمارے مددعو تھے۔ آخر ان کو ملک سے نکال باہر کرنے کی تحریک کس دعوتی جذبے کے تحت درست قرار دی جاسکتی ہے۔ غالباً آپ اس پر اس لئے تنقید نہیں کرتے کہ یہ ایک ناگزیر تاریخی عمل تھا۔ میرے نزدیک یہی اصول تحریک پاکستان کے معاملہ میں بھی کارفرما ہے (طالب محسن، لاہور) جواب ہندستان میں ملکی آزادی کی جو تحریک چلائی گئی اس میں اگر چہ علما بڑی تعداد میں شریک تھے۔ مگر میں اس کو کوئی اسلامی تحریک نہیں سمجھتا۔ اور نہ اس کے لئے جہاد آزادی کے لفظ کا استعمال شرعاً درست سمجھتا ہوں۔ یہ بات میں نے بار بار الرسالہ میں اور اپنی کتابوں میں لکھی ہے۔ میرے نزدیک آزادی کی یہ تحریک ایک قومی تحریک تھی۔ اور اسی اعتبار سے اس کا جواز ہے۔ اگر پاکستان کی تحریک کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ وہ ایک قومی تحریک تھی نہ کہ کوئی اسلامی تحریک تو اس کے بارے میں بھی میری رائے مختلف ہو جائیگی۔ میں نے بار بار لکھا ہے کہ جن علما نے انگریزوں کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریک چلائی انہیں انگریزوں کے معاملہ میں دعوتی تحریک چلانا چاہئے تھا۔ اسی طرح جن مسلم رہنماؤں نے ہندو مسئلہ کے خلاف علیحدہ پاکستان کی تحریک چلائی، ان کے لئے بھی زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں دعوت کی تحریک چلاتے۔ میری ایک ہی رائے دونوں قسم کے مسلم رہنماؤں کے بارے میں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page