مراقبہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴
(اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے جوار مانگے تو تم اس کو جوار دے دو تا کہ وہ اللہ کے کلام کو سنے پھر اس کو اس کے مامن میں پہنچادو۔ یہ اس لئے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے) عمومی حکم کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم یا بظاہر مخالف اسلام گروہ کا کوئی فرد مسلم علاقہ میں آنا چاہے تو تم اس کو وہاں بلا روک ٹوک آنے دو۔ اس طرح اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اسلام کے پیغام کو جانے اور اسلام کے بارے میں اس کی بے علمی ختم ہو جائے :
If a non Muslim seeks a visit to your place let him come to you so that he may hear the word of God. And then arrange for his safe retrurn to his home. اس قرآنی تعلیم کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی "غیر شخص" مسلمانوں کے علاقہ میں آنا چاہے تو اس کی آمد کو روکنے کی مہم نہ چلائی جائے اس کے بجائے انہیں یہ کرنا چاہئے کہ وہ اسے خدا کے پیغام سے آشنا کرنے پر ساری طاقت خرچ کریں۔ وہ سیٹنگ ورسز کے جواب میں ہولی ورسز (Holy Verses) تیار کرکے شائع کریں۔ وہ ہندو ایجنڈا کے بجائے اسلامی ایجنڈا کی معنویت سے لوگوں کو آگاہ کریں۔
صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع کو ایک امکان (Opportunity) کے روپ میں دیکھا جائے اور اس کو بھر پور طور پر استعمال (avail) کیا جائے۔ موجودہ زمانہ پریس اور میڈیا کا زمانہ ہے۔ پریس اور میڈیا، اپنے مزاج کے مطابق، ایسے موقع پر ہر چیز چھاپنے اور مشتہر کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اس لئے ایسے موقع کو اگر منظم طور پر اسلام کے تعارف کے لئے استعمال کیا جائے تو پریس اور میڈیا کے پورے نظام کو اس مقصد کے لئے اپنا زبر دست معاون بنایا جاسکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues