Al-Risala · April 1999 · page 45

اسلام کا طریقہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

اسلام کا طریقہ

مکی دور کے ابتدائی زمانہ میں عمر بن الخطاب اسلام کے سخت مخالف بنے ہوئے تھے۔ حتی کہ ایک روز وہ اپنے گھر سے تلوار لے کر نکلے کہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کا خاتمہ کر دیں۔ راستہ میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنھوں نے ان کے دل کو نرم کر دیا اور وہ اسلام کی طرف مائل ہو گئے۔ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مکہ میں اسلام کی سخت مخالفت ہو رہی تھی اور حالات بے حد شدید ہو گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑی کے پاس اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ ایک مکان میں مقیم تھے جس کو دار ارقم کہا جاتا تھا۔ ایک صحابی خباب کے ذریعہ عمر بن الخطاب کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ صفا کے قریب ایک گھر میں ہیں۔ وہ صفا کی طرف روانہ ہو گئے۔ حسب معمول ان کے کندھے پر ایک تلوار لٹک رہی تھی۔ وہاں پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب ان کی آواز سنی تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہو گئے۔ اور دروازے کی دراز میں سے انھیں دیکھا کہ تلوار لئے ہوئے باہر کھڑے ہیں۔ وہ گھبرائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹے۔ یہ عمر بن الخطاب ہیں اور تلوار لئے ہوئے ہیں۔ حمزہ بن عبد المطلب نے کہا: ان کو آنے کی اجازت دیجیئے۔ اگر وہ بھلائی کے ارادے سے آئے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بھلائی ہی کا سلوک کریں گے۔ اور اگر وہ کسی برائی کے ارادے سے آئے ہیں تو ہم ان کو انہی کی تلوار سے قتل کر دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اذن له۔ “ انھیں آنے دو۔ اس شخص نے آنے کی اجازت سنائی۔ رسول اللہ ﷺ اٹھ کر ان کی طرف چلے۔ ان کے پاس پہنچ کر ان کی چادر کو پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ اے خطاب کے بیٹے، تم کو کیا چیز یہاں لائی ہے؟ خدا کی قسم میں نہیں سمجھتا کہ تم باز آؤ گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی آفت تمھارے اوپر نازل فرمائے۔ عمر نے کہا: اے خدا کے رسول! میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ اللہ، اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues

Printed page