اسلام کا طریقہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹
بنگلور کے انگریزی ہفتہ روزہ ایمنس (Eminence) کے نما ئندہ مسٹر انور علی نے ۲۹ دسمبر ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم فنڈ مظلوم جیسی کوئی چیز انڈیا میں نہیں۔ بعض مسلم ملکوں میں ضرور فنڈ منٹھلٹ گروپ پائے جاتے ہیں مگر جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے یہاں کوئی قابل ذکر مسلم فنڈ منٹھلٹ گروپ نہیں ۔ بعض افراد پائے جاتے ہوں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ کو دہلی کے ہندی اخبار جن سکتا کے نما ئندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اسلام بلا شبہ حب الوطنی کی تعلیم دیتا ہے۔ البتہ اسلام میں وطن کی پرستش کی تعلیم نہیں۔ وطن کی پرستش کچھ لوگوں کا مذہبی عقیدہ ہو سکتا ہے، مگر یہ حب وطن کی کوئی شرط نہیں۔
۵ دسمبر ۱۹۹۸ کو پر وٹسٹنٹ چرچ نئی دہلی میں ایک جلسہ ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے بھی اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فرق اور اختلاف کے با وجود ہر ایک کا احترام کرو۔ ہر ایک کو اس کے اخلاقی اور انسانی حقوق ادا کرو۔ حدیث رسول کی روشنی میں اس کو واضح کیا گیا۔
آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) میں ۲ جنوری ۱۹۹۹ کو ایک پینل ڈسکسشن ہوا۔ اس میں پروفیسر مدھوڈنڈوتی اور دوسرے تعلیم یافتہ لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ ہمارے دیش کی پہچان کیریکٹر ہے۔ دوسری بات یہ کہ کیر کٹر کی تعمیر ایجو کیشن کے ذریعہ ہوتی ہے۔ مجبورا نہ کیریکٹر حکومت کے زور پر بھی لایا جا سکتا ہے مگر وہ غیر مفید ہے۔ اصل ضرورت سلف ڈسپلن کی ہے اور سلف ڈسپلن صرف ایجو کیشن کے ذریعہ آسکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1999 All issues