غیر مسنون تحریکیں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۶
نا قابل تقسیم حد تک جوڑ رکھا ہے گویا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو کوئی دینی کام نہیں کیا جاسکتا۔ یہ فکر پیغمبر اسلام کے طریقہ کے سراسر خلاف ہے۔ یہی غیر مسنون طریقہ ہے جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی اسلامی تحریکوں کو ایک بے فائدہ ہنگامہ بنا دیا۔ قربانی کی حد تک عمل کرنے کے باوجود ان تحریکوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔
پیغمبر اسلام کا طریقہ کیا تھا۔ مکی دور میں کعبہ پر مشرکین کا سیاسی قبضہ تھا، اس کے باوجود آپ نے کعبہ کو مرکز عبادت اور مرکز دعوت کے طور پر استعمال کیا۔ معراج کے وقت بیت المقدس پر غیر مسلموں کا قبضہ تھا اس کے باوجود آپ اللہ کے حکم سے وہاں گئے اور تمام نبیوں کے ساتھ اجتماعی نماز ادا کی۔ ہجرت کے بعد بیت المقدس پر عیسائیوں کا سیاسی قبضہ تھا، اس کے باوجود آپ نے تقریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کو اپنا قبلہ عبادت بنایا، وغیرہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ بروقت جو سیاسی حالت (political statusquo) قائم ہے اس کو سب سے پہلے توڑیں اور اس کے بعد اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔ اس کے برعکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ موجود سیاسی اقتدار کے باقی رہتے ہوئے جو دینی یادعوتی عمل کیا جاسکتا ہے، اس سے اپنا عمل شروع کر دینا۔ سیاسی مسائل کو حالتِ التواء میں رکھ کر موجود مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہی پیغمبر اسلام کی سنت ہے، اور اس دنیا میں کامیابی صرف ان لوگوں کے لئے مقدر ہے جو پیغمبر اسلام کی سنت پر عمل کریں۔ مذکورہ قسم کا سیاسی فکر آدمی کو صرف محرومی اور جھنجلاہٹ میں مبتلا کرتا ہے، وہ کسی کو مثبت عمل کا حوصلہ نہیں دیتا۔ اس کے برعکس اگر سیاسی اقتدار کو چھیڑے بغیر ممکن دائرے میں اپنا کام شروع کر دیا جائے تو آدمی کو فوراً ہی مثبت کام کے لئے کھلا ہوا میدان مل جائے گا۔ اب ہر آدمی امید اور حوصلے کے ساتھ اقدام کی پوزیشن میں ہو جائے گا۔ وہ رکاوٹ کی چٹان سے غیر ضروری ٹکراؤ کئے بغیر اپنے لئے تعمیری عمل کے مواقع پالے گا اب اس کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوگا۔