ہما چل پردیش کا سفر
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۷
ہما چل پردیش کا سفر
مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوری نے ستمبر ۱۹۷۹ میں مسروالا (ہماچل پردیش) میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنے شیخ مولانا عبد القادر رائے پوری کے نام پر اس کا نام مدرسہ قادریہ رکھا۔ اس کے بعد جلد ہی اپنے شاگرد مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کو بلا کر اس کا انتظام ان کے حوالے کر دیا۔ ۱۹۸۰ سے مولانا کبیر الدین صاحب اس کے ناظم ہیں۔
پچھلے دس سال سے وہ برابر مجھ کو اپنے مدرسہ میں آنے کی دعوت دے رہے تھے، کبھی براہ راست اور کبھی ٹیلی فون پر۔ مگر کسی نہ کسی سبب سے وہاں کا سفر نہ ہو سکا۔ ۱۷ نومبر ۱۹۹۵ کی صبح کو وہ دہلی آئے اور کچھ اس انداز سے اصرار کیا کہ میرے لئے انکار نا ممکن ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ میں اپنے پھیلے ہوئے کاموں کو چھوڑ کر صبح ۱۰ بجے ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
ہماری گاڑی چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچی جہاں ایک طرف تاریخی جامع مسجد ہے اور دوسری طرف لال قلعہ کی سرخ دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ کو دیکھ کر مجھے اردو شاعر کی طویل نظم کا ایک شعر یاد آیا:
اے قلعہ سرخ اے اثر شاہجہانی برباد شدہ عظمتِ ماضی کی نشانی یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ماضی کی گزری ہوئی عظمتوں میں اتنا گم ہوئے کہ وہ حال کی حقیقتوں کا صحیح ادراک نہ کر سکے۔ پدرم سلطان بود کی نفسیات نے انہیں مثبت نقطۂ نظر سے محروم کر دیا۔ اس المناک صورتِ حال کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے رہنما بن کر اٹھے وہ زیادہ تر شاعر اور خطیب اور انشاء پرداز قسم کے لوگ تھے انہوں نے رجز خوانی کی، جب کہ اس وقت اصل ضرورت حقیقت بیانی کی تھی چنانچہ ان لوگوں نے اپنی غیر حقیقی باتوں سے پوری ملت کے مزاج کو بگاڑ دیا۔ موجودہ زمانہ میں