مقام نزاع سے ہٹ جانا
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۳
طور پر صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے بعد پہلی بار آپ غزوۂ بدر کے موقعہ پر اپنے اصحاب کو لیکر دشمنوں سے مقابلے کے لئے نکلے۔ یہ بھی آپ نے اس وقت کیا جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کھلا وعدہ آگیا کہ آسمان سے فرشتے تمہاری مدد کے لئے آئیں گے ۔ (الانفال ۹)
پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ یہ نہیں کہ جب بھی کوئی ظلم کرے تو فوراً اس کے خلاف کارروائی شروع کردی جائے۔ آپ کی سنت یہ ہے کہ ظلم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عملی اقدام صرف اس وقت کیا جائے جب کہ اس کا نتیجہ خیز ہونا یقینی بن گیا ہو۔
مقام نزاع سے ہٹ جانا
پیغمبر اسلام ﷺ نبوت کے بعد تقریباً ۱۳ سال تک مکہ میں رہے۔ کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا مگر مکہ کی اکثریت آپ کی شدید مخالف بنی رہی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صرف مخالفت آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لئے کافی نہیں تو وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ انھوں نے طے کیا کہ مکہ کے تمام سردار بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کردیں ۔ تاکہ آپ کی تحریک توحید کا خاتمہ ہوجائے۔
یہ ایک نازک موقع تھا۔ بظاہر ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لیکران سے مقابلہ کریں۔ مگر آپ نے اس معاملہ کو نتیجہ کے اعتبار سے دیکھا چونکہ اس وقت کے حالات میں مسلح مقابلہ غیر مفید ہوتا اس لئے آپ نے اعراض کے اصول پر عمل فرمایا اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت نزاع سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ نزاع کے مقام سے ہٹ جانا
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues