اغیار کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۴
ہے۔ اس طرح آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو بچا کر انھیں زیادہ مفید طور پر استعمال کر سکے۔
اغیار کی رعایت
اسلام میں ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا ہے۔ (التوبہ ۶۰) تالیف قلب کا مطلب ہے دلوں کو جوڑنا، لوگوں کو اپنے سے مانوس کرنا۔ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے۔ دوسروں کے جذبات اور مفادات کا احترام کیا جائے۔ تالیف کا یہ اصول اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ ابدی طور پر ہر انسانی سماج میں مطلوب ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں تالیف قلب کے اس اصول پر عمل فرمایا۔ مثلاً جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت وہاں اہلِ ایمان کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی آباد تھے۔ اس وقت آپ نے اپنی طرف سے ایک منشور جاری فرمایا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی آزادی ہوگی۔ ہر قبیلہ کے نزاعی معاملات اس کی اپنی قبائلی روایات کے تحت طے کئے جائیں گے۔ عقیدہ اور کلچر کے معاملہ میں کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ یہود کے ساتھ آپ نے خصوصی رعایت کا معاملہ فرمایا، رمضان کے روزہ کی فرضیت سے پہلے آپ بھی انھیں دنوں میں روزہ رکھتے رہے جب کہ یہود روزہ رکھتے تھے۔ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے تقریباً سترہ مہینہ تک آپ نے یہود کے قبلہ (بیت المقدس) کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ یہود کے قبلہ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا اس لئے تھا کہ آپ امید رکھتے تھے کہ اس طرح وہاں کے یہود آپ سے مانوس ہوں گے اور آپ کے قریب
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues