Al-Risala · January 1999 · page 25

راز داری

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

آجائیں گے۔ (تفسیر القرطبی ۲/ ۱۵۰)

پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا۔ بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انھیں اپنا تابع بنائیں۔ اس کے بر عکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انھیں اپنا ساتھی بنایا جائے۔

راز داری

فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہو گئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کر رہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لئے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم (والله ما ادری) سیرت ابن ہشام ۳/ ۱۲۴) پیغمبر اسلام ﷺ کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ راز داری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھامکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لئے ہے۔

نازک اجتماعی معاملات میں راز داری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page