Al-Risala · May 1999 · page 48

لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں

الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸

مشترک کا نفرنسوں میں سال بھر یہ دعوتی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسلام کی دعوت کو پھیلانا اور اسلام کی عظمت کو آج کی دنیا میں قائم کرنا الرسالہ کا نشانہ ہے۔ اور غالباً الرسالہ مشن دور جدید کا واحد مشن ہے جو کامیابی کے ساتھ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر یہ کام کر رہا ہے۔ امریکہ کے کچھ لوگوں کے تعاون سے یہ مشن اب انٹرنیٹ اور ویب سائٹ پر بھی آچکا ہے۔ ۱۵۔ فروری ۱۹۹۹ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے بنگال کا دعوتی سفر کیا۔ اس سلسلہ میں کلکتہ، برہم پور اور مرشد آباد میں مختلف پروگرام ہوئے جن میں اس علاقہ کے ہندو اور مسلمان دونوں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ بڑے پیمانہ پر انفرادی ملاقاتیں ہوئیں۔ گفتگو اور تقریر کا موضوع زیادہ تر دو تھا۔ اسلامی دعوت اور ملکی تعمیر۔ اس چار روزہ سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

۱۶۔ کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن کی طرف سے ۹ فروری ۱۹۹۹ کو انڈیا انٹر نیشنل سنٹر میں ایک سیمینا ر ہوا جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع تشدد اور پولیوشن تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ ایک مقرر کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ اسلام جہاں بھی پھیلا ہے اپنی نظریاتی برتری کے زور پر پھیلا ہے نہ کہ تلوار کے زور پر۔

۱۷۔ دور درشن (نئی دہلی) نے ۱۹ فروری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک گھنٹہ کے انٹرویو میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ آپ کو سنگیت سننے کا شوق ہے۔ انھوں نے جواب میں کہا کہ سنگیت سے دلچسپی تو انسان کی فطرت ہے۔ مگر مجھے پروفیشنل آرٹسٹوں کے سنگیت سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس فطرت کا سنگیت مجھے بہت پسند آتا ہے۔ چڑیوں کے چہچہے، ہواؤں کی سرسراہٹ، دریا کی روانی میں جو موسیقی ہوتی ہے وہ فطرت کی موسیقی ہے، وہ بناوٹی نہیں، ایسی فطری موسیقی مجھے پسند آتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1999 All issues

Printed page