لیک بعد از خرابیِ بسیار آنچہ دانا کند کند ناداں
الرسالہ، مئی ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷
(بنگال) کا دورہ کیا۔ یہاں مدرسہ کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی۔ اور مختلف مقامات پر کئی دینی اور دعوتی خطابات کئے۔ یہ سفر ۳۰ جنوری ۱۹۹۹ کو شروع ہوا اور ۲ فروری کو ختم ہوا۔ اس کی رو داد انشاء اللہ الرسالہ میں سفر نامہ کے ذیل میں شائع کر دی جائے گی۔ ۱۲۔ نیشنل کونسل آف چرچ (نئی دہلی) کی طرف سے وائی ایم سی اے کانفرنس سنٹر میں ۵ فروری ۱۹۹۹ کو ایک انٹر نیشنل میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ یورپ کے کئی اسکالر شریک ہوئے۔ اس کا موضوع تھا: انسان کو باہم جوڑنے والی چیز کیا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور حدیث کی روشنی میں انگریزی میں ایک تقریر کی۔
۱۳۔ گلف نیوز کے نمائندہ مسٹر گوپال مشرا نے ۶ فروری ۱۹۹۹ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلام میں ہر فرد کو رائے کی آزادی دی گئی ہے۔ اسلام کے مطابق کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے کہے کہ تم فلاں بات بولو اور فلاں بات نہ بولو۔ ایک آدمی کو اگر کسی کی رائے سے اختلاف ہے تو وہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کر سکتا ہے، لیکن اختلاف رائے کی بنیاد پر کسی کے خلاف تشدد کرنا اسلام میں جائز نہیں۔
۱۴۔ اور اداء الرسالہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ وہ اسلام کے پیغام توحید اور پیغام انسانیت کو نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا میں پھیلائے۔ اس کا ایک نمونہ وہ مضمون ہے جو حال میں انگریزی اخبار پائیر (۷ فروری ۱۹۹۹) میں چھپا ہے۔ یہ مضمون مع ترجمہ الرسالہ کے زیر نظر شمارے میں شامل ہے۔ پائیر میں یہ مضمون مندرجہ ذیل عنوان سے شائع ہوا: How Islam passed the test of history اس طرح کے مضامین انگریزی اور ہندی اور دوسری زبانوں کے اخبارات ورسائل میں سالہا سال سے مسلسل شائع کئے جارہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ملک کے اندر اور ملک کے باہر