امت وسط
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴
امت وسط
قرآن میں امت محمدی کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وکذلك جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيداً (البقره ۱۴۳) یعنی اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تا کہ تم ہو شاہد (بتانے والے) لوگوں کے اوپر اور رسول ہو تم پر شاہد (بتانے والا)۔
وسط کے معنی بیچ کے ہیں۔ امت وسط کا مطلب ہے بیچ کی امت۔ جیسا کہ آیت کے الفاظ سے واضح ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدی کو خدائی پیغام رسانی کے عمل میں بیچ کی کڑی کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے ایک طرف پیغمبر اسلام ہیں اور اس کے دوسری طرف اقوام عالم۔ امت محمدی کو نسل در نسل یہ کام کرنا ہے کہ وہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ سے خدا کے دین کو لے، اور پھر اس کو ٹھیک ٹھیک ویسا ہی ہر دور کے انسانوں تک پہنچاتی رہے۔ مفسر الطبری نے حضرت ابن زید کا یہ قول نقل کیا ہے کہ : رسول الله ﷺ شاهد علی امته، وهم شهداء على الامم (تفسیر الطبری (۲/۱۱) یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے اوپر شاہد ہیں اور امت دوسری قوموں کے اوپر شاہد ہے۔
اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن زید کا اسی مفہوم کا ایک اور قول نقل ہوا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : هم وسط بين النبي ﷺ وبين الأمم (صفحه ۸) یعنی یہ امت رسول الله ﷺ اور اقوام عالم کے درمیان ہے۔
اس آیت میں دراصل امت محمدی کی مخصوص ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ مگر خدا کے دین کی پیغام رسانی کا کام بدستور باقی ہے۔ اب یہ کام پیغمبر اسلام ﷺ کی نیابت میں آپ کی امت کو انجام دینا ہے۔ یہ درمیانی ذمہ داری اس امت کو نسل در نسل انجام دینا ہے یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues