مشکل نہیں
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۵
مشکل نہیں
میری زندگی کا ایک بہت بڑا سبق وہ ہے جو مجھ کو قرآن سے ملا۔ اسلام کے شروع کے زمانہ میں جب مسلمان بہت تھوڑے تھے اور ان کے مخالفین ان کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ اس وقت ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مشکلات کے اس طوفان میں اپنا کام کس طرح کیا جائے۔ اس وقت قرآن میں ایک آیت اتری جس میں انھیں اس معاملہ میں رہنمائی دی گئی۔ وہ آیت یہ تھی : ان مع العسر یسرا یعنی مشکل سے نہ گھبراؤ، کیونکہ مشکل کے ساتھ ہی اس دنیا میں آسانی بھی موجود ہے۔ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جہاں مشکل ہے وہیں اور عین اسی وقت آسانی بھی موجود ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں پرابلم کے ساتھ اس کا حل بھی موجود ہو۔ جہاں پرابلم یا کٹھنائی ہو وہیں ایسے مواقع (opportunities) بھی موجود ہوں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکے۔ اس دنیا میں پرابلم اور حل دو ایسے جوڑواں بھائی ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔
میں اپنی زندگی میں کئی بار نقصان یا ناکامی سے دوچار ہوا ہوں مگر میں نے ہر بار اسی اصول کو استعمال کیا۔ چنانچہ جب بھی میں نے غور کیا تو میں نے پایا کہ جہاں پرابلم پیدا ہوا وہیں اس کا حل بھی موجود تھا۔ مثلاً یہ کہ جہاں اوسط درجہ کی محنت سے کام نہ بن رہا ہو وہاں آدمی زیادہ محنت کر کے اپنا کام بنالے۔
میں نے ایک بار ایک منظر دیکھا۔ اسکول کے بچے تقریباً ایک سو کی تعداد میں اسکول سے نکل کر سڑک پر آگئے۔ وہ فٹ پاتھ پر چلنا چاہتے تھے مگر تنگ فٹ پاتھ پر وہ بھیڑ کی صورت میں نہیں چل سکتے تھے۔ انہوں نے اپنے استاد کی ہدایت پر یہ کیا کہ دودو کی صورت میں لمبی قطار بنالی
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues