اللہ کا ذکر
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۷
اللہ کا ذکر
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا درجہ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے افضل ہو گا۔ فرمایا کہ اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے (ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل ای العباد افضل درجة عند الله يوم القيامة قال الذاكرين الله كثيراً) الترمذی، کتاب الدعوات ۔
ذکر کا مطلب کسی قسم کا لفظی ورد نہیں ہے۔ اس کا مطلب اللہ کی یاد ہے۔ اللہ کی یاد پورے دین کا خلاصہ ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو اس کی عظمت وجلال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو یہ دریافت اس کی پوری شخصیت کے اندر ایک ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔ اس کے دل میں خدا کی یاد کا طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ اندرونی کیفیت بار بار تکبیر و تحمید کے الفاظ کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔
اسی بے تابانہ یاد کا نام ذکر ہے۔ اس ذکر کا کوئی وقت نہیں، وہ ہر حال میں آدمی کی زبان پر جاری رہتا ہے، خواہ گھر کے اندر ہو یا مسجد میں ہو یا میدانِ جہاد میں ۔ یہ ذکر بلاشبہ تمام اعمال میں سب سے افضل عمل ہے۔ الترمذی کی ایک اور روایت میں ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزر و تو وہاں خوب چر لو۔ پوچھا گیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں۔ فرمایا کہ ذکر کے حلقے ( اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا - قالوا وما رياض الجنة - قال حلق الذكر )
الطبرانی نے یہ روایت کسی قدر لفظی فرق کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس میں ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گز رو تو خوب چر لو۔ پوچھا گیا کہ جنت کے باغ کیا ہیں۔ فرمایا کہ علم کی مجلسیں (اذا مررتم برياض الجنة فارتعوا ۔ قالوا وما رياض الجنة - قال مجالس العلم) مجلس ذکر اور مجلس علم دونوں ایک ہیں۔ انفرادی ذکر جب اجتماعی ذکر کی صورت میں ہو تو اسی کا نام مجلس ذکریا مجلس علم ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues