داخلی کیفیت
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۸
داخلی کیفیت
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله لا ينظر الى صوركم واموالكم و لكن ينظر الى قلوبكم و اعمالكم (مشکوٰة ۳-۱۶۶۲)۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری صورتوں کو اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا۔ بلکہ وہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ عمل کے دو پہلو ہیں، خارجی اور داخلی۔ اللہ کے یہاں کسی عمل کی قیمت اس کی صورت خارجی کے اعتبار سے متعین نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی کیفیت داخلی کے اعتبار سے متعین ہوتی ہے۔ داخلی احساس اور اندرونی محرک کے اعتبار سے اگر آدمی اللہ کی رضا کے لئے متحرک ہوا ہے تو اس کا عمل قابل انعام ٹھہرے گا۔ اور اگر آدمی کے داخلی وجود اور اس کی اندرونی شخصیت میں اللہ کی رضا طلبی کے سوا کوئی اور جذبہ بسا ہوا تھا تو ایسے آدمی کا عمل رد کر دیا جائے گا۔ وہ اللہ کے یہاں کسی انعام کا مستحق نہیں قرار پائے گا۔
ایک شخص دینی سرگرمی دکھاتا ہے۔ اس کی دینی سرگرمی اگر خالص اللہ کے لئے ہو تو وہ آخرت کی میزان میں قابل قدر ہے، اور اگر اس کی سرگرمی کا محرک لوگوں کے درمیان عزت حاصل کرنا ہو تو ایسی دینی سرگرمی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ ایک شخص اللہ کے نام پر مال خرچ کرتا ہے۔ اگر یہ کام اس نے رضائے الہی کی طلب میں کیا ہے تو وہ آخرت میں اس کا انعام پائے گا۔ لیکن اگر اس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کے درمیان نمایاں ہو تو اس کامالی انفاق آخرت میں اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کوئی کام خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی قدر و قیمت کا تعین اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کے پیچھے کام کرنے والے جذبہ سے ہوتا ہے نہ کہ محض اس اعتبار سے کہ وہ ظاہری طور پر لوگوں کو کیسادکھائی دیتا ہے۔ جو شخص دنیا کے لئے کام کرے، اس نے دنیاہی میں اپنے عمل کا بدلہ پالیا۔ جو شخص آخرت کے لئے کام کرے تو اس کا عمل آخرت کے دفتر میں محفوظ ہے۔ وہ اپنی آخرت کی زندگی میں اس کا بہترین اجر پائے گا۔ اور بلا شبہ سب سے اچھا اجر آخرت کا اجر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues