حقیقی کامیابی
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۹
حقیقی کامیابی
کسی آدمی کی سب سے بڑی محرومی کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ نہ ملنے والی چیز کی خاطر ملنے والی چیز سے اپنے آپ کو محروم کر لے۔ دنیا میں آدمی کو مختلف قسم کی لذتیں دکھائی دیتی ہیں۔ خوشیوں کے قہقہے اس کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ وہ ان خوشیوں اور لذتوں کی طرف دوڑتا ہے۔ ہر قسم کی کوشش کے بعد آخر کار وہ انہیں حاصل کر لیتا ہے۔ یہ خوشیاں اور لذتیں کسی کو کم مقدار میں ملتی ہیں اور کسی کو زیادہ مقدار میں۔ مگر یہ صرف ایک ظاہری فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک محروم ہوتا ہے۔ ہر ایک اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جس خوشی اور لذّت کو وہ حاصل کرنا چاہتا تھا، بظاہر پانے کے باوجود وہ اس کو نہ پا سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لذتیں اور خوشیاں ہمیشہ انسان کی اصل طلب سے بہت کم ہوتی ہیں۔ انسان کی اصل طلب یہ ہے کہ اس کو معیاری خوشی اور معیاری لذت ملے۔ مگر دنیا کی ہر لذت انسان کے ذہنی معیار سے بہت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں محل والا بھی اپنی حاصل کردہ خوشی سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا کہ جھونپڑی والا۔
آخرت کی خوشی کے لئے دوڑنا ایک حقیقی خوشی کی طرف دوڑنا ہے اور دنیا کی خوشی کے لئے دوڑنا ایک بے حقیقت خوشی کی طرف دوڑنا ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص آخرت کو بھول کر دنیا کی خوشی کی طرف دوڑے اس نے گویا نہ پانے والی چیز کی طلب میں اپنے آپ کو پانے والی چیز سے محروم کر لیا۔
حقیقت یہ ہے کہ معیاری لذت اور معیاری خوشی صرف آخرت میں ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جس کو آخرت کی معیاری لذت اور خوشی حاصل ہو۔ اس دنیا میں واحد کامیاب انسان وہ ہے جو نہ ملنے والی چیز سے نظریں ہٹا کر ملنے والی چیز کے لئے عمل کرے، جو دنیا کی فرضی جنت کو چھوڑ کر آخرت کی حقیقی جنت کو اپنے لئے یقینی بنانے کی کوشش کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues