قساوتِ قلب
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
قساوتِ قلب
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ۔۔ کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔ اور ان میں سے اکثر نا فرمان ہیں (الحدید ۱۶)
اس آیت میں قساوت سے مراد دل کا سخت ہو جانا یا بے حس ہو جانا ہے۔ یہ کیفیت ہمیشہ ان قوموں کے ساتھ پیش آتی ہے جن کو خدا کی کتاب دی گئی اور پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ حامل کتاب گروہ کی ابتدائی نسل میں ایمانی حساسیت زندہ رہتی ہے۔ مگر بعد کی نسلوں میں یہ کیفیت باقی نہیں رہتی۔ اس کے بجائے لوگوں میں بے حسی آ جاتی ہے۔ دین کا ظاہری ڈھانچہ اگر چہ ابھی باقی رہتا ہے مگر دین کی اسپرٹ ختم ہو جاتی ہے۔ اسی حالت کا دوسرا نام قساوت ہے۔ قساوت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں میں فرق کا احساس باقی نہیں رہتا۔ اپنی بے حسی کی بنا پر لوگ ایک چیز کو دوسری چیز سے بہت زیادہ الگ نہیں کر پاتے۔ اس کے نتیجہ میں پورا معاشرہ اخلاقی ابتری کا شکار ہو جاتا ہے۔
بے حس لوگ علمی تنقید اور الزام تراشی کے فرق کے بارے میں زیادہ شدید نہیں ہوتے۔ اس لئے وہ لوگوں کے خلاف الزام کی زبان بھی اسی اطمینان کے ساتھ بولتے ہیں جس طرح حقیقت کا اظہار کرتے وقت انھیں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ ایک جھوٹ بات بھی اسی آسانی سے کہہ دیں گے جس طرح ایک سچ بات کہی جاتی ہے۔ وہ خیانت کا معاملہ کرنے میں بھی اتنا ہی جری ہوتے ہیں جتنا کہ امانت کا معاملہ کرنے میں۔
حساسیت اس بات کی ضامن ہے کہ آدمی حق اور ناحق کے فرق کو شدت کے ساتھ محسوس کرے۔ اس کے بر عکس جن لوگوں میں یہ شدت احساس موجود نہ ہو وہ دونوں کے فرق کو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues