Al-Risala · June 1999 · page 14

قساوتِ قلب

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴

نہیں سمجھیں گے ۔ وہ ایک ناجائز فعل کو بھی اسی طرح کھلے دل کے ساتھ کریں گے جس طرح کوئی شخص ایک جائز فعل کو کرتا ہے ۔

اس شدت احساس کا تعلق زندگی کے ہر پہلو سے ہے۔ کوئی آدمی اگر دوسرے کی غلطی پکڑنے میں شدتِ احساس کا مظاہرہ کرے تو اس کے اندر یہی شدت خود اپنی غلطی کو محسوس کرنے کے بارے میں بھی ہونی چاہئے ۔ یہ قساوتِ قلب کی علامت ہے کہ آدمی دوسرے کی غلطی کے معاملے میں شدید ہو اور اپنی غلطی کے معاملے میں وہ غیر شدید ہو جائے۔ اگر آپ دوسرے آدمی کی ایک غلطی کو لے کر اس کا زور و شور کے ساتھ اعلان کریں تو اس کے ساتھ آپ کے اندر یہ مادہ بھی ہونا چاہئے کہ جب یہ معلوم ہو کہ جس چیز کو آپ نے غلطی سمجھا تھا وہ غلطی تھی ہی نہیں تو آپ کو اسی شدت کے ساتھ خود اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہئے ۔ اس دنیا میں اعلانِ حق کا کریڈٹ صرف اس شخص کو ملتا ہے جو اسی طاقت کے ساتھ اعتراف حق کا ثبوت بھی دے سکے۔ اعلان حق وہی معتبر ہے جس کے ساتھ اعتراف حق کا جذبہ بھی آدمی کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہو۔ اعتراف حق کا تعلق اپنی ذات سے ہے اور اعلان حق کا تعلق دوسرے کی ذات سے۔ اور خدا کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنی ذات کو حذف کر کے صرف دوسروں کے بارے میں سوچے اس کو کبھی اعلان حق یا اقامت حق کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا۔ بے حس انسان اور حساس انسان میں وہی فرق ہے جو ایک جانور میں اور ایک حقیقی انسان میں ہوتا ہے ۔ جانور حق و باطل کے احساس سے خالی ہے۔ ایک جانور اگر کسی کو سینگ مارے تو اس کا ضمیر اس کو ملامت نہیں کرے گایا اگر وہ کسی غیر کے کھیت میں گھس کر اس کی فصل کھا لے تو اس کو یہ احساس نہیں ستائے گا کہ اس نے ایک ناحق کام کیا ہے۔ مگر انسان فطری طور پر اپنے اندر حق و باطل کی تمیز رکھتا ہے۔ یہ فطری تمیز جب تک اس کے اندر زندہ ہو اس وقت تک وہ انسان کے درجہ میں رہتا ہے اور جب اس کی یہ داخلی تمیز کند ہو جائے تو اس کے بعد وہ انسانیت کے درجہ سے گر کر حیوان کے درجہ میں پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page