ایک دعا
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸
ایک دعا
حدیث کی کتابوں میں پیغمبر اسلام کی بہت سی دعائیں نقل کی گئی ہیں۔ یہ دعائیں پیغمبر اسلام کی اندرونی شخصیت کو بتاتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے سینہ میں کس قسم کے احساسات کا طوفان برپا رہتا تھا۔ ان کے اندر کی دنیا کس قسم کے جذبات و خیالات سے ہمیشہ آباد رہتی تھی۔ ان میں سے ایک دعا وہ ہے جو ان الفاظ میں آپ کی زبان سے نکلتی تھی: اللهم ارنا الحق حقاو ارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاو ارزقنا اجتنابه وارنا الاشیاء کما ھی (اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے اور اے اللہ ہمیں باطل کو باطل کے روپ میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور اے اللہ ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔ موجودہ دنیا میں حقیقتوں کے اوپر اشتباہ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ جو شخص صرف چیزوں کے ظاہر کو جانے وہ ان کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے سمجھ نہیں سکتا۔ پیغمبر کو یہ احساس تڑپاتا ہے۔ وہ بیتابانہ اللہ کو پکار کر یہ کہنے لگتا ہے کہ اے اللہ مجھ کو حقیقت بینی کی نعمت عطا فرما تاکہ میں چیزوں کو ٹھیک ٹھیک سمجھوں، میں ہر چیز کے بارے میں وہی درست رائے قائم کروں جو حقیقت واقعہ کے اعتبار سے ہونا چاہئے۔ صحیح فکر کے بغیر سچی معرفت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح صحیح فکر کے بغیر صحیح عمل کا ظہور بھی ممکن نہیں۔ یہی احساس تھا جو شدت اختیار کر کے مذکورہ قسم کی دعائیں ڈھل گیا تھا۔ یہ دعا ایک مومنانہ قلب کی تصویر ہے جو پیغمبر کے سینہ میں اعلیٰ ترین درجہ میں موجود ہوتی ہے۔
اس دنیا کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ آدمی کو حق باطل کے روپ میں دکھائی دے اور باطل اس کو حق کے روپ میں دکھائی دینے لگے۔ اس سے بچنا اسی آدمی کے لئے ممکن ہے جو اللہ کی توفیق سے اتنا با شعور ہو جائے کہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو وہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues