عملِ زراعت
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
عملِ زراعت
قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــــ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں تاکہ تم سمجھو (الحدید ۱۷)
ملت کے ابتدائی افراد ذہنی تبدیلی اور شعوری انقلاب کے ذریعہ جاہلیت سے نکل کر خدا کے دین کی طرف آتے ہیں۔ ان کا ایمان زندہ ایمان ہوتا ہے۔ مگر بعد کی نسلوں میں یہ شعور گھٹنا شروع ہوتا ہے۔ کئی نسلیں گزرنے کے بعد لوگ جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ملت کی بعد کی نسلوں میں بھی وہی ایمانی شعور پیدا کیا جائے جو اس کی ابتدائی نسل میں پایا جاتا تھا۔ یہ مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔ اس کے لئے خدا نے زمین کی صورت میں ایک عملی مثال قائم کر دی ہے۔ زمین میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک فصل دینے کے بعد وہ خشک ہو جاتی ہے اور بظاہر بنجر زمین کی طرح دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس وقت کسان دوبارہ وہی عمل شروع کرتا ہے جو زمین پر ابتدائی مرحلہ میں کیا گیا تھا۔ یعنی کھیت کو جوتنا، اس میں کھاد اور پانی دینا، اس میں بیچ بونا، مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اس کو ہر قسم کی آفات سے بچانا۔ اس طرح کا ایک لمبا اور مسلسل عمل ہوتا ہے جو ہر صبح و شام جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب کہ سوکھی زمین دوبارہ ایک لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ مردہ زمین کو جس طرح عملِ زراعت کے ذریعہ دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح ملت کے معاملہ میں بھی ایک عملِ زراعت مطلوب ہے، یہاں بھی یہی کرنا ہے کہ اگلی نسلوں میں جب زوال اور انحطاط کا دور آجائے تو دوبارہ کسان جیسا عمل کر کے ملت کی بعد کی نسلوں کو اسی طرح اٹھایا جائے جس طرح اس کی ابتدائی نسل اٹھی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues