خبر کی تحقیق
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
ان کا نام طلقاء (آزاد) رکھنا سراسر نا قابل فہم بات ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی واقعات مذکورہ بیان کی قطعی تردید کرتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں الطقاء کن لوگوں کو کہا گیا تھا، یہ ایک معلوم اور مشہور واقعہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ نبوت کے بیس سال بعد مکہ فتح ہوا۔ اس وقت یہاں کے تمام سردار آپ کے پاس لائے گئے۔ یہ لوگ مسلمہ طور پر جنگی مجرم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی ۔ اور نہ ان کے ساتھ تشدد کا کوئی معاملہ کیا۔ اس کے بجائے آپ نے ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اذهبوا فأنتم الطلقاء (البداية والنهاية لإبن كثير، الجزء الرابع صفحه ۳۰۱) یعنی جاؤ، پس تم لوگ آزاد ہو۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ المنجد میں چھپی ہوئی بات اصل واقعہ کے سراسر خلاف ہے۔ مگر اس کا غلط اور بے بنیاد ہونا صرف اس وقت معلوم ہو گا جب کہ علمی اصول کے مطابق اس کی تحقیق کی جائے۔ اس بیان کا غلط ہونا المنجد کے صفحات میں نہیں ملے گا بلکہ اس خارجی مواد میں ملے گا جو اس بیان سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، الطلقاء کی لغوی اور تاریخی تحقیق سے نہ کہ صرف المنجد کے مذکورہ صفحہ کے پڑھنے سے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی ایک سنگین بات کو سنے یا پڑھے تو اس کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اس کو سن کر یا پڑھ کر مان لے اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلانے لگے۔ اگر آدمی کے اندر اللہ کا ڈر ہے تو اس کو اللہ کی پکڑ کے اندیشے سے ایسے فعل سے بچنا چاہئے۔ قرآن وحدیث کے مطابق یہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ کوئی آدمی اگر سنی یا پڑھی ہوئی خبر کی تحقیق نہ کرنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے نہ کہ وہ بلا تحقیق بولنے لگے۔ ایسی حالت میں چپ رہنا تو آدمی کے لئے قابل معافی ہو سکتا ہے مگر بولنا ہر گز اس کے لئے قابل معافی نہیں۔ بری خبر کی تحقیق کرنا فرض ہے، اور بری خبر کو تحقیق کے بغیر بیان کرنا حرام ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو شریعت اسلامی کے اس اہم مسئلہ کو جانتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues