Al-Risala · June 1999 · page 21

خبر کی تحقیق

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱

ایک خط

برادر محترم مولانا جمیل احمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مورخہ ۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء ملا، جو ۱۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ جماعت کے ایک سینئر رکن اور اس کے ایک ذمہ دار فرد ہیں۔ اس لئے میں نے آپ کے اس خط کو خصوصی اہمیت دی اور اس کو کئی بار پڑھا۔ تاہم آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے میری تشفی نہ ہو سکی۔ آپ نے اپنے خط میں جو کچھ فرمایا ہے وہ علمی اور دینی دونوں اعتبار سے میرے نزدیک بے وزن ہیں۔ اس سلسلہ میں اپنے احساسات زیر نظر خط کی صورت میں آپ کو روانہ کر رہا ہوں۔ ۱۔ آپ نے میرے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ ”آپ کے فکر و خیال کے خلاف کوئی بات کہی جائے تو آپ طیش میں آجاتے ہیں اور چراغ پا ہو جاتے ہیں۔ “ میں کہوں گا کہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ میں اپنے خلاف تنقید کو بے حد پسند کرتا ہوں۔ میں اکثر حضرت عمر فاروق کے اس قول کو دہراتا ہوں کہ رحم الله امرأ اهدی الی عیوبی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ میرے ایک قریبی رفیق مولانا انیس لقمان ندوی میرے ساتھ تقریباً ۸ سال تک تھے۔ ۲ سال پہلے وہ عرب امارات چلے گئے۔ پہلی بار جب وہ وہاں گئے تو ایک عرب شیخ نے ان سے پوچھا کہ تم ہندوستان میں کیا کرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: آنا ناقد اكبر ناقد في الهند۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ تنقید میرے لئے ایک محمود چیز ہے نہ کہ کوئی مبغوض چیز۔

۲۔ آپ نے نام لئے بغیر بمبئی کے کسی صاحب کا میرے بارے میں یہ ریمارک نقل کیا ہے کہ انھوں نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھ کر یہ کہا کہ اس کی ترتیب دینے والے کا ایگو (ego) بہت پھولا ہوا ہے۔ میں کہوں گا کہ اس معاملہ میں انصاف کی بات یہ تھی کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page