Al-Risala · June 1999 · page 42

Prima facie it stands rejected.

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲

ہوتی ہے۔ اس کی آواز ہوا کی لہروں پر سفر نہیں کرتی بلکہ وہ دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ایک روح سے نکل کر دوسری روح تک پہنچتی ہے۔ اسی کا نام اخلاص ہے، اور جو بات اس اخلاص کے ساتھ نکلے وہ از دل خیز در دل ریز کی مصداق ہوتی ہے، الایہ کہ سننے والا ایک ایسا انسان ہو جس کے سینہ میں بد قسمتی سے دل ہی نہ ہو، ایسا آدمی پتھر کا ایک مجسمہ ہوگا کہ حقیقتاً کوئی زندہ انسان۔ سوال میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اکثر آپ کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ مگر وہ ہمیشہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ شوشتے نکال کر آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ لوگ دلیل کی زبان میں آپ کی کاٹ کریں یا قرآن وحدیث کے حوالوں سے آپ کی بات رد کریں۔ آخر اس روش کے پیچھے نفسیات کیا ہے۔ یہ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں جب کہ مجھے یقین ہے کہ اس قسم کی باتوں سے نہ آپ کی تردید ہوتی ہے اور نہ کوئی ان سے متاثر ہو سکتا ہے۔ (ڈاکٹر انوار الحق، اعظم گڑھ)

جواب

اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ آپ کے پاس اپنے حریف کے لئے اگر بم ہو تو آپ اس کے اوپر بم ماریں گے، آپ اس کی طرف کنکری نہیں پھینکیں گے۔ البتہ اگر آپ محسوس کریں کہ میرے پاس اپنے حریف کے خلاف کوئی طاقت ور ہتھیار نہیں تو دل کا بخار نکالنے کے لئے آپ اس کو گالیاں دیں گے۔ کنکری پھینک کر یہ تسکین حاصل کریں گے کہ آپ نے اس کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ جو لوگ میرے خلاف عیب زنی اور الزام تراشی کی مہم چلا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ دلائل کے اعتبار سے وہ بالکل بے بس ہیں۔ یہ الرسالہ کا ہر قاری جانتا ہے کہ میں جو کچھ لکھتا ہوں ہمیشہ قرآن وحدیث کے حوالوں کی روشنی میں لکھتا ہوں۔ ایسی حالت میں جو لوگ میرے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار کریں انھوں نے صرف مجھ کو نشانہ نہیں بنایا۔ انھوں نے قرآنی دعوت کو رد کیا۔ انھوں نے اپنی زبان حال سے یہ کہا کہ ہم کو قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page