Al-Risala · June 1999 · page 43

Prima facie it stands rejected.

الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳

وحدیث سے کوئی مطلب نہیں، ہم کو صرف اپنے تعصبات سے مطلب ہے۔ بظاہر اگر چہ وہ مجھ کو برا بھلا کہتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ قرآن وحدیث کے مقابلہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ وہ نعوذ باللہ خدا ورسول کی ناقدری کرنے کے مجرم بن رہے ہیں۔ ان حضرات کی یہ روش اپنی حقیقت کے اعتبار سے قرآن کے اس ارشاد کی مصداق ہے ”یہ لوگ تم کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں۔ (الانعام ۳۳)

سوال

کچھ مسلمانوں کو آپ سے جو شکایت ہے، وہ اس وقت شروع ہوئی جب آرایس ایس اور کٹر ہندوؤں کے جلسوں میں جانے لگے۔ مسلمان عام طور پر ان عناصر کو مسلم دشمن سمجھتے ہیں۔ اس لئے جب آپ ان کے جلسوں میں جانے لگے تو کچھ لوگوں کو آپ کے بارے میں یہ شبہ ہوا کہ آپ خدا نخواستہ ان کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ یہ سوال ان مسلمانوں کے ذہن میں بھی ہے جو اسلام کے بارے میں آپ کی تحریروں کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ براہ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عمران احمد اصلاحی، دہلی)

جواب

اس معاملہ میں لوگوں کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ یہ تو میں ایک بھولی ہوئی سنت کو زندہ کر رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کافروں اور مشرکوں کی مجلسوں میں اور ان کے میلوں اور بازاروں میں جاتے تھے تاکہ انھیں اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ یہ لوگ خود اپنے اجتماعات ہی میں بڑی تعداد میں مل سکتے ہیں، کسی اور جگہ ہم ان کو نہیں پا سکتے۔ اس لئے ان کو عمومی طور اسلام سے متعارف کرنے کی واحد صورت یہی ہے کہ خود ان کے اجتماعات میں شرکت کی جائے۔ آر ایس ایس کے لوگ میرے اس مقصد کو بخوبی جانتے ہیں۔ چنانچہ آرایس ایس کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر (دہلی) نے میرے بارے میں دو قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا: ایک مبلغ مولانا (A Missinary Maulana) آرایس ایس کے ایک لیڈر ڈاکٹر مہیش چندر شرمانے ہندی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues

Printed page