Prima facie it stands rejected.
الرسالہ، جون ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹
آنے کا ویزا دیا جاتا ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ میں اپنے آفس میں ان سے ملاقات کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ یہاں آئیں اور اپنی کتاب اور اسلام کے بارے میں اپنے خیالات پر مجھ سے بات کریں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا۔ اگر ان کے اندر علمی سنجیدگی ہے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انھوں نے جو باتیں اپنی کتاب میں لکھی ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں۔ وہ حقیقت یا تاریخ پر مبنی نہیں۔ ۱۲۔ ۲۱ اپریل ۱۹۹۹ کو انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کو ہسٹری آف فارسٹ اور ڈبلیو ایف نے مشترکہ طور پر آرگنائز کیا تھا۔ اس کا موضوع تھا: مذہب اور تحفظ فطرت Religion and Conservation اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن کی روشنی میں اس موضوع پر ایک تقریر کی۔ یہ تقریر انشاء اللہ مرتب کر کے مضمون کی صورت میں شائع کر دی جائے گی۔
۱۳۔ کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ۱۱ مارچ ۱۹۹۹ کو ایک اجتماع ہوا۔ یہ وبھا جن آسویکار نامی کتاب کور یلیز کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اصل مسئلہ وبھا جن کو آسویکار کرنے کا نہیں ہے بلکہ نفرت کو آسویکار کرنے کا ہے۔ نفرت ہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔ نفرت کو ملک کے اندر بھی ختم کرنا ہے اور ملک کے باہر بھی۔ تمام مسائل نفرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور پیار و محبت سے انہیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر مہیش چندر شرما نے مرتب کی۔ ۱۴۔ مارچ ۱۹۹۹ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے کیر الا اور بمبئی کا سفر کیا۔ دونوں جگہ مختلف قسم کے پروگراموں میں شرکت کی۔ کیر الا میں شانتی گری آشرم (ٹریونڈرم) کی کانفرنس میں شرکت کی۔ مذکورہ آشرم میں کثیر تعداد میں غیر مسلموں سے ملاقات ہوئی اور اسلام کے تعارف کا موقع ملا۔ اس سفر کی رپورٹ انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1999 All issues