تاریخ کو انتظار ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۹، صفحہ ۶
(creative group) بن کر رہنا سیکھیں۔ وہ لینے والے گروہ نہ رہیں بلکہ وہ اس ملک میں دینے والے گروہ بن جائیں۔ اور یہی اسلام کا تقاضا ہے۔ اس کے بعد ملک میں ایک نیا دور آ جائے گا۔ جب کہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک کے روپ میں ابھرے گا اور دنیا کے نقشہ میں اپنا وہ مقام حاصل کر لے گا جو اس کے لئے مقدر ہے۔
سوامی وویکانند نے ۱۸۹۸ میں کہا تھا کہ مستقبل کا ہندوستان ایک پر عظمت ہندوستان (glorious India) ہوگا اور اس پر عظمت ہندوستان کی تعمیر ہندو اور مسلمان دونوں مل کر کریں گے ۔ یہ بات بلا شبہ درست ہے مگر ہندو اور مسلمان دونوں کو یہ تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنا ہوگا۔ ضروری اہلیت کے بغیر دونوں میں سے کسی کے لئے بھی اس تاریخی کردار کو انجام دینا ممکن نہیں۔
ہندوؤں میں سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک ان کے نام الاٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک خطر ناک قسم کی غلط فہمی ہے۔ اس ذہن کے ساتھ ان کے لئے اپنا مطلوب کردار ادا کرنا ممکن نہیں۔ ہندو بلا شبہ اس ملک میں اکثریتی فرقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر ہر اکثریت آخر کار فطرت کے اٹل قانون کے تحت ہے نہ کہ اس سے آزاد۔ اس دنیا میں ہر اکثریت اسی طرح فطرت کے قانون کے تابع ہے جس طرح کوئی اقلیت۔
ہندوؤں کو یہ کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ سادہ طور پر محض عددی تناسب کے نقطۂ نظر سے نہ دیکھیں بلکہ وہ انھیں اپنا فطری شریک کار سمجھیں۔ وہ مسلمانوں کو ہندوستانی گاڑی کے دوسرے پہیہ کی حیثیت سے قبول کریں۔ اس کے بغیر ملک میں کوئی حقیقی ترقیاتی عمل شروع نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ مذکورہ حدیث رسول کے مطابق، اس ملک میں انھیں جو تعمیری رول ادا کرنا ہے اس کی لازمی شرط بھی یہی اہلیت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1999 All issues